’ایرانی میزائلوں کے مقابلے میں اسرائیلی انٹرسیپٹرز کم پڑ گئے‘، امریکی میڈیا کا واویلا
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے پاس میزائلوں کی تعداد اسرائیل کے پاس موجود انٹرسیپٹرز سے کہیں زیادہ ہے، جس سے اسرائیل کو اپنی دفاعی صلاحیت میں شدید کمی کا سامنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ کشیدگی کے تناظر میں اسرائیلی دفاعی نظام پر دباؤ بڑھ رہا ہے، اور اگر ایران مکمل حملے کی جانب بڑھا تو اسرائیلی آئرن ڈوم اور دیگر دفاعی نظام ممکنہ طور پر تمام حملوں کو روکنے میں ناکام ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایرانی میزائل حملوں نے اسرائیل میں تباہی مچا دی،14 افراد ہلاک، متعدد عمارتیں تباہ
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال خطے میں طاقت کا توازن متاثر کر سکتی ہے۔ تاہم امریکا خفیہ ذرائع سے اسرائیل کی بھرپور مدد کر رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی انٹرسیپٹرز امریکی میڈیا ایرانی میزائل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی میڈیا ایرانی میزائل
پڑھیں:
امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
واشنگٹن: امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پابندیوں کا مقصد ایران سے منسلک مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے جن پر امریکی حکام کو پابندیوں سے بچنے میں معاونت کا شبہ ہے۔
بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان افراد اور اداروں کے ساتھ کاروبار یا مالی لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے، کمپنیاں اور افراد بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس اقدام کے بعد بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے لیے ان نامزد اداروں سے تعلقات برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ حتمی منصوبے پر فوری ردعمل دینے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کوئی باضابطہ جواب نہیں بھیجا گیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی تجویز پر ایران میں مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے اور متعلقہ حکام اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے تہران کسی بھی ممکنہ معاہدے میں صرف وعدوں پر انحصار نہیں کرنا چاہتا بلکہ ایسے ٹھوس اور حقیقی فوائد کا خواہاں ہے جو ایرانی عوام اور ملکی معیشت کے لیے عملی نتائج فراہم کر سکیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نئی امریکی پابندیاں اور جاری سفارتی مذاکرات ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کے امکانات پر بھی عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔