’ایران نے ابھی تک ’جدید ٹیکنالوجی‘ کے حامل استعمال نہیں کیے‘
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی میں جہاں ایرانی مسلح افواج نے بھرپور جوابی کارروائیاں کی ہیں، وہیں دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران نے اب تک اپنی نئی نسل کے میزائل استعمال ہی نہیں کیے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکی دھمکیوں کے آگے نہیں جھکے گا، شہرام اکبرزادہ
اسرائیل کی جانب سے 13 جون کو ایران پر اچانک اور بغیر جواز کے حملے کیے گئے، جن میں جوہری، فوجی اور رہائشی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں متعدد فوجی کمانڈر، ایٹمی سائنسدان اور شہری شہید ہوئے۔
ایران نے ان حملوں کے فوری بعد جوابی کارروائیاں شروع کیں، اور 19 جون تک ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کی ایرو اسپیس فورس نے ’آپریشن ٹرو پرامس III‘کے تحت اسرائیلی اہداف پر 13 مرتبہ میزائل حملے کیے۔
اسرائیلی دفاع کو مفلوج کرنے والے 10 نکات رات اور دن میں حملے:ایران نے دن اور رات کے مختلف اوقات میں حملے کر کے اسرائیلی دفاعی نظام کو غیرمنظم کر دیا ہے۔
نقلی اور اصل حملوں کا امتزاج:حملوں میں جعلی (decoy) اور اصل حملوں کا ملاپ اسرائیلی فضائی دفاع کو الجھا دیتا ہے۔
مختلف اقسام کے ہتھیاروں کا استعمال:ایران نے بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور خودکش ڈرونز جیسے مختلف ہتھیار استعمال کیے ہیں۔
جدید دفاعی نظاموں کی ناکامی:ایرانی میزائل جدید ترین دفاعی نظام جیسے THAAD، آئرن ڈوم اور ڈیوڈز سلنگ کو عبور کرتے ہوئے اپنے اہداف تک پہنچے۔
غیر متوقع اور مسلسل حملے:میزائل مختلف اقسام کے اور وقفے وقفے سے داغے گئے، جن کی پیشگوئی ممکن نہ تھی۔
مختلف اہداف پر حملے:ایرانی افواج نے مقبوضہ علاقوں میں متنوع اور حیران کن اہداف کو نشانہ بنایا۔
پوری مقبوضہ سرزمین پر حملے:ایرانی میزائل شمال سے جنوب تک تمام مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں پہنچے، کوئی علاقہ محفوظ نہ رہا۔
تفصیلی ہدف ڈیٹا بینک:ایران کے پاس ایک مکمل ڈیٹا بینک موجود ہے جس سے وہ فوجی اڈے، آئل ریفائنریاں اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے۔
واضح وارننگز:ایرانی افواج نے بارہا خبردار کیا کہ اب مقبوضہ علاقوں میں کوئی جگہ محفوظ نہیں رہی۔
نئی میزائل ٹیکنالوجی ابھی باقی ہے:ماہرین کے مطابق ایران نے ابھی تک اپنی کئی جدید اور لمبے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کو استعمال نہیں کیا۔ اس حکمت عملی کے تحت ایران مسلسل اسرائیل کو دفاعی طور پر غیر یقینی کیفیت میں رکھنا چاہتا ہے۔
ایرانی جوابی حملے اسرائیلی دفاعی حکمت عملی کو بری طرح متاثر کر چکے ہیں، اور ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران کی مزید جدید میزائل ٹیکنالوجی ابھی منظرعام پر آنی باقی ہے، جس سے آنے والے دنوں میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل ایران میزائل نیوجنریشن میزائل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل ایران نیوجنریشن میزائل ایران نے
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔