Express News:
2026-06-03@00:44:58 GMT

ایران پر بلا اشتعال صیہونی حملہ

اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT

13جون2025 طلوعِ فجر سے کچھ دیر پہلے تہران سمیت ایران کے متعدد شہر اور مقامات اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں دھماکوں سے لرز اُٹھے۔حملے سے ایران کی اعلیٰ ترین فوجی قیادت اور اس کے بہت تجربہ کار نیوکلیئر سائنس دان لقمہء اجل بن گئے۔

حملے میں فوجی تنصیبات کے علاوہ نیوکلیئر مقامات اور پٹرولیم تنصیبات بھی نشانہ بنیں۔حملے سے پہلے امریکا اور ایران مذاکرات کر رہے تھے۔امید کی جا رہی تھی کہ مذاکرات کامیاب ہوں گے اور مسئلے کا کوئی حل نکل آئے گا۔مذاکرات کے اگلے راؤنڈ سے دو تین دن پہلے اسرائیل نے بلا اشتعال حملہ کر دیا۔حالات جو بھی رُخ اختیار کریں لیکن یہ طے ہے کہ اسرائیل اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکے گا۔

ابھی تک کی آمدہ اطلاعات کے مطابق دونوں طرف سے حملے کیے جا رہے ہیں ایران نے جوابی حملوں میں ڈرونز اور مختلف میزائلوں سے اسرائیل پر حملہ جاری رکھا ہوا ہے۔ایران کے میزائل اس کے اپنے بنائے ہوئے ہیں۔اگر ایران کی طرف سے فائر کیے گئے صرف 20فیصد میزائل بھی نشانے پر پہنچ رہے ہیں تو یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔اسرائیل کا Invincibleہونے کا بھرم ٹوٹ چکا ہے۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اسرائیل کے ابتدائی حملے کے موقع پر ایرانی دفاعی نظام مکمل طور پر فعال نہیں تھا پچھلے سال ایران،اسرائیل جھڑپ میں اسرائیل نے روسی ساختہ دفاعی نظام S-300کو نشانہ بناکر ناکارہ کر دیا تھا۔جو بچا کھچا فضائی دفاعی نظام تھا اس کو اتنے بڑے اور حقیقی خطرے کے باوجود فعال نہ رکھا گیا۔ایرانی قیادت شاید یہ سمجھتی رہی کہ ابھی امریکا کے ساتھ مذاکرات چل رہے ہیں۔

اس لیے فی الحال حملہ نہیں ہو گا۔تمام اعلیٰ ترین عسکری قیادت اور مایہء ناز نیوکلیئر سائنس دان مزے سے اپنے اپنے گھروں میں محوِ استراحت تھے کہ حملہ ہو گیا اور ان میں سے اکثر سوتے میں اپنے رب سے جا ملے۔جنگ کی حقیقی تیاری سے آنکھیں چرانے کا اس سے بڑا اور کوئی ثبوت نہیں ہو سکتا۔

جن اہم اور اعلیٰ شخصیات نے ابتدائی اسرائیلی حملے میں داعی اجل کو لبیک کہا ان میں حسین سلامی پاسدارانِ انقلابِ ایران کے کمانڈر ان چیف،جنرل محمد باقری ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف ، فریدون عباسی ایرانی اٹامک آرگنائیزیشن کے سابق سربراہ شامل ہیں۔ اسرائیل نے ایران کی کئی نیوکلر سائٹس پر حملہ کر کے بہت نقصان پہنچایا ہے لیکن شاید ابھی تک ایرانی ایٹمی پروگرام مکمل تباہی سے بچا ہوا ہے۔بظاہر ایران بہت مشکل میں ہے اور اس پر بہت دباؤ ہے لیکن ایرانی جنگ کرنا اور موت کو گلے لگانا جانتے ہیں۔

چونکہ ایران اسرائیل جنگ جاری ہے اس لیے یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ اس کا حتمی نتیجہ کیا نکلے گا لیکن ایک بات طے ہے کہ اتنے بڑے خطرے اور مخاصمت کے باوجود ایران نے صحیح سمت میں اقدام نہیں اُٹھائے۔ایران خطے کے ممالک میں اپنی ذیلی تنظیمیں کھڑا کرتا اور انھیں مسلح کرتا رہا۔ایران ہمسایہ مسلمان ممالک کو اپنا انقلاب ایکس پورٹ کرتا رہا۔جس سطح کی انٹیلی جنس ایجنسی اور فوج کی ضرورت تھی اس سے نظریں چرائی گئیں۔

جس کامیابی سے اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد نے ایران کے اندر اپنے Assetsپیدا کیے اور ان کے ذریعے جتنا نقصان پہنچایا وہ حیران کن ہے۔اسرائیل کو ہر اہم ایرانی فوجی افسر اور سائنس دان کی رہائش گاہ اور موومنٹ کی آگاہی رہی ہے۔اسماعیل ہانیہ کو مروا کے بھی ایرانی انتظامیہ نے آنکھیں نہیں کھولیں۔ اسرائیل نے تہران شہر کے بیچوں بیچ ایک جگہ پر اپنا اڈہ قائم کرکے ایرانی فوجی افسروں،ایٹمی تنصیبات اور پٹرولیم ڈپوز کو نشانہ بنایا اور ایرانیوں کو خبر تک نہیں ہوئی۔ایسے لگتا ہے کہ ایرانی انتظامیہ،ایرانی افواج ا،نیوکلیئر سائنس دانوں اور اہم اداروں میں ہر کوئی Compromised ہے۔موساد نے ہر جگہ نفوذ کیا ہوا ہے۔ایرانی انتظامیہ بے بس اور نا اہل نظر آتی ہے۔آج کے دور میں راز داری، ٹیکنالوجی اور برق رفتار انٹیلی جنس بہت بنیادی جنگی ہتھیار ہیں۔

ایران نے بہت ہمت دکھائی ہے لیکن ایران کی فضائیہ نہ ہونے کے برابر ہے۔اس کے پاس کچھ بہت پرانے امریکی ساختہ طیارے ہیں۔پچھلی تقریباٍ 5دہائیوں سے بظاہر پابندیوں کی وجہ سے ایرانی فضائیہ کو اپ گریڈ نہیں کیا گیا۔اگر روس ایران کو S-300ڈیفنس سسٹم دے سکتا تھا تو جدید طیارے بھی فراہم کرنے کو تیار تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

اسی طرح چین سے بھی فضائی دفاع کے معاہدے ہو سکتے تھے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔پاکستان نے ایک وقت میں ایران،لیبیا اور شمالی کوریا کو ایٹمی میدان میں مدد دی لیکن ایران نے اس راز کو فاش کر کے پاکستان کو انتہائی مشکل میں ڈال دیا۔اڑوس پڑوس کے ممالک کے لیے ایران ایک مشکل ہمسایہ بنا رہا۔ایران آبنائے ہرمز کو بند کر کے اور بین الاقوامی ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے نکل کر دنیا کو بہت مشکل میں ڈال سکتا ہے۔

پاکستان میں آوازیں اُٹھ رہی ہیں کہ پاکستان ایران کی فوری مدد کرے ورنہ اسرائیل اگلی بار پاکستان کو ہدف بنائے گا۔پاکستانی سوشل میڈیا اس قسم کی پوسٹوں سے بھرا پڑا ہے۔ہم ہر فیک نیوز کو بلا سوچے سمجھے دوسروں کے ساتھ شیئر کرتے چلے جاتے ہیں اور پھر بھارتی میڈیا کے ذریعے بیرونی میڈیا اس میں مرچ مسالہ لگا کر پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کرنا شروع کر دیتا ہے۔ہمارے وزرا بھی احتیاط سے بات نہیں کرتے۔پاکستان اﷲ کی ایک انمول نعمت اور بہت قیمتی تحفہ ہے۔پاکستان کی ایٹمی  و فوجی قوت صرف اور صرف پاکستان کے دفاع کے لیے ہے۔ہر ملک نے اپنی لڑائی خود لڑنی ہوتی ہے۔

بھارت پاکستان لڑائی میں ایران نے بھارت کی مذمت تک نہیں کی لیکن پاکستان نے بہت کھل کر ایران کی حمایت اور اسرائیل کی مذمت کی۔ ایران کلبھوشن جیسے بھارتی ایجنٹوں کو ہمارے خلاف لانچ کرتا رہا ہے لیکن پاکستان نے ایک بھائی کی طرح ایران کی بہت سفارتی مدد کی۔

پاکستان کو پاکستان سے باہر کسی بھی لڑائی کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ہمیں از حد چوکس رہ کر اپنے دفاع کو مزید مضبوط بنانا چاہیے اور حالیہ پاک بھارت جنگ سے جن کمزوریوں کی نشان دہی ہوئی ہے ان پر قابو پانا چاہیے۔ہمیں ایران اسرائیل جنگ سے بھی سبق سیکھنا چاہیے۔ ہمارا دشمن بھارت بہت کمینہ اور مکار ہے اور کسی بھی وقت حملہ کر سکتا ہے۔بھارتی ریاست بہار میں اکتوبر انتخابات سے پہلے مودی حکومت کوئی بھی کھلواڑ کر سکتی ہے۔ خدا ایران کی مدد اور حفاظت کرے اور پاکستان کو اغیار اور منافقوں کی ریشہ دوانیوں اور حملوں سے محفوظ رکھے۔آمین

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسرائیل نے پاکستان کو ایران نے ایران کی ایران کے ایران ا نہیں کی ہے لیکن

پڑھیں:

ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟

ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔

اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔

لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔

گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟

مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔

مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیان

تازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔

پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیں

گزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے  تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔

اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقات

پاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

یورپی یونین کی غیر معمولی تائید

یکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔

اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ  طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔

اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔

’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکز

موجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔

امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار