لاہور:ورلڈ بینک نے حکومت پنجاب کے ساتھ مل کر 10 سال کے منصوبے پر کام کی رفتار مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

وزیراعلی مریم نواز شریف کی ہدایت پر سینیٸر صوباٸی وزیر مریم اورنگزیب کی زیر صدارت ورلڈ بینک کے نماٸندگان سے جاری منصوبوں پر پیشرفت سے متعلق جاٸزہ اجلاس ہوا۔ ورلڈ بینک نے تعلیم، صحت، تمام طبقات کی فلاح اور سماجی خدمات کے معیاری کام پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی تعریف کی۔

پنجاب کی سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب سے ورلڈ بینک کے وفد کی ملاقات ہوئی، جس میں تین ماہ کی کنٹری اسٹرٹیجی کا جائزہ لیا گیا۔ تعلیم، صحت اور اجتماعی سماجی بہتری کے منصوبوں میں ورلڈ بینک کے فنڈز کی فراہمی کی تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔

چیف سیکریٹری زاہد اختر زمان، چیئرمین پی اینڈ ڈی نبیل احمد اعوان اور تمام محکموں کے سیکریٹریز نے شرکت کی۔ ورلڈ بینک کے تعاون سے جاری منصوبوں میں پیشرفت اور درپیش مسائل کا جائزہ بھی لیا گیا۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ غیر ملکی سرمایہ سے زیر عمل منصوبوں کی روزانہ کی بنیاد پر ڈیش بورڈ پیش رفت کا جائزہ لیتی ہیں۔

اجلاس نے فنڈز کے شفاف استعمال اور اوورلیپنگ سے بچنے پر اتفاق کیا۔ اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ پنجاب سوشل اکنامک رجسٹری ڈیٹا اور ڈیلوری سپورٹ پروگرام سماجی تحفظ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اجلاس میں نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام، پنجاب ٹورازم فار اکنامک گروتھ اور فیملی پلاننگ پروگرام پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

ماحولیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت اور زراعت کے مکمل شعبے کو جدید بنانے میں حائل رکاوٹوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پنجاب کے تمام دیہات میں پانی کی فراہمی کے پائیدار نظام کی اہمیت پر فریقین نے اتفاق کیا۔ پنجاب کے وسائل کی ترقی اور ڈیجیٹل نظام کے موثر استعمال کے منصوبے میں پیش رفت اور حائل رکاوٹوں پر بھی بات ہوئی۔

مریم اورنگزیب نے گفتگو میں کہا کہ ورلڈ بینک کے تعاون اور سماجی بہتری کے لیے سرمایہ کی فراہمی پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ورلڈ بینک کے وفد نے پنجاب میں وزیراعلیٰ کی گورننس، منصوبوں پر پیش رفت کی رفتار اور معیار کو سراہا۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ورلڈ بینک کے اتفاق کیا کا جائزہ لیا گیا پیش رفت

پڑھیں:

پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔

لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔

حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم