پنجاب میں الیکٹرک بسوں کیلئے دو ہزار چارجنگ اسٹیشنز قائم کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
لاہور:
ماحول دوست پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ کیلئے پنجاب حکومت کا بڑا اقدام، الیکٹرک بسوں کیلئے صوبہ میں دو ہزار چارجنگ اسٹیشنز قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر صوبہ بھر میں ابتدائی طور پر 600 الیکٹرک بسیں چلائی جائیں گی۔
چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان نے ڈپٹی کمشنرز کے ویڈیو لنک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے تمام ڈپٹی کمشنرز کوالیکٹرک چارجنگ اسٹیشنز اور بس ڈپو کیلئے موزوں مقامات کی نشاندہی کی ہدایت کردی۔
چیف سیکریٹری نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے وژن کے مطابق تمام شہروں میں جدید سفری سہولیات کیلئے الیکٹرک بسیں فراہم کی جائیں گی، منصوبے کے ذریعے شہری بین الاقوامی معیار کی سفری سہولیات سے مستفید ہو سکیں گے۔
چیف سیکرٹری نے ڈپٹی کمشنرز کو پبلک ٹرانسپورٹ میں اوور لوڈنگ کیخلاف مہم شروع کرنے کی بھی ہدایات کی۔ انکا کہنا تھا کہ گورننس اور صحت کے شعبہ کی بہتری پنجاب حکومت کی اولین ترجیح ہے، انتظامی افسران اضلاع میں صفائی ستھرائی کے معیار کو برقرار رکھنے کیلئے مسلسل محنت کریں۔
چیف سیکریٹری نے کہا کہ محکمہ ریونیو میں کرپشن کاخاتمہ ڈپٹی کمشنرز کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ کرپشن کے خاتمے سے عام آدمی کو ریلیف ملے گا۔ اراضی ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن جلد مکمل کی جائے، چیف سیکرٹری نے آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات کی روک تھام کیلئے بھی ضروری ہدایات جاری کیں۔
اجلاس میں صحت، ٹرانسپورٹ کے محکموں کے سیکرٹریز، سی ای او ایل ڈبلیو ایم سی نے شرکت کی، ڈی جی ایل ڈی اے، تمام ڈویژنل کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈپٹی کمشنرز
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔