Express News:
2026-07-24@02:42:53 GMT

کرکٹ لیگز کیلئے کروڑوں لیکن ہاکی کیلئے بجٹ نہیں

اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT

پاکستان کو نیشنز ہاکی کپ کے سیمی فائنل میں پہنچانے والے قومی ہاکی ٹیم کے کپتان عماد بٹ نے شکایتوں کے انبار لگادیے۔

گرین شرٹس نے پول بی میں دوسرے نمبر پر آنے کے بعد سیمی فائنل میں جگہ بنالی ہے اور آج (20 جون) کو اہم معرکے میں فرانس کا چیلنج درپیش ہوگا۔

پہلے سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ اور کوریا کی ٹیمیں مدمقابل آئیں گی، ایونٹ کا فائنل جتنے والی ٹیم پرو ہاکی لیگ کھیلنے کی حقدار ٹھہرے گی۔

مزید پڑھیں: نیشنز ہاکی کپ؛ سیمی فائنل میں پہنچنے والی ٹیم کے پلئیرز یومیہ الاؤنس سے محروم

قومی ٹیم کے کپتان نے شکوہ کیا کہ ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے لیکن اسکی سرپرستی کوئی نہیں کرنا چاہتا، پاکستان کی آبادی 240 ملین سے زیادہ ہے، تقریباً ہر کوئی کسی نہ کسی کھیل کا مداح ہے۔ کرکٹ ہر ایک کی توجہ کا مرکز ہے اور اس کھیل کو سرمایہ کاری اور تعاون حاصل رہتا ہے لیکن ہمارا قومی کھیل زندہ رہنے کیلئے جدوجہد کررہا ہے اور تکلیف سے گزر رہا ہے۔

مزید پڑھیں: کھلاڑیوں کے الاؤنسز کا معاملہ؛ ہاکی فیڈیشن کا موقف سامنے آگیا

عماد بٹ نے سوال کیا کہ کیا کوئی ہے جو پاکستان ہاکی کی جدوجہد کو صحیح معنوں میں سمجھتا ہو؟ کیا ہمارے سیاست دان قومی کھیل کی پرواہ کرتے ہیں؟ کیا وزراء اس کھیل میں دلچسپی لیتے ہیں جس نے کبھی اس ملک کو اولمپک گولڈ لایا تھا؟ بزنس مین کرکٹ لیگز پر کروڑوں خرچ کرتے ہیں لیکن جب ہاکی کی بات آتی ہے تو بجٹ نہیں ہوتا۔

مزید پڑھیں: پاکستان نے نیشنز ہاکی کپ کے سیمی فائنل میں جگہ بنالی

انہوں نے کہا کہ قومی ہاکی ٹیم کا کھیل بھی ملک میں دی جانیوالی سہولتوں کا آئینہ دار ہے، بحیثیت کھلاڑی، ہمیں درد ہوتا ہے، آج بھی میدان میں جیتنے کی کوشش کریں گے لیکن ہم یہ اکیلے نہیں کرسکتے۔

عماد بٹ نے کہا کہ نیشنز ہاکی کپ میں شریک پاکستانی ٹیم کے پلئیرز کو 10 روز کے ایک دن کا بھی یومیہ الاؤنس ادا نہیں کیا گیا، جو محض 30 ہزار روپے بنتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سیمی فائنل میں نیشنز ہاکی کپ ٹیم کے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف