کشمیر کا پانی ہمارا ہے، پنجاب کی طرف موڑنے نہیں دوں گا،عمر عبداللہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سری نگر: مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کے روز جموں میں زور دے کر کہا کہ وہ یونین ٹیریٹری کے پانی کو پنجاب کی طرف موڑنے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے کیونکہ یہ پانی جموں و کشمیر کے عوام کا حق ہے۔
جموں کے کنوینشن سینٹر میں رابطہ دفتر کے افتتاح کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہاسندھ طاس معاہدے کے تحت تین دریا پنجاب کو دیے گئے تھے، لیکن جب ہمیں پانی کی شدید ضرورت تھی تو ہمیں ایک قطرہ بھی نہیں دیا گیا۔
شاہ پور کنڈی بیراج منصوبے کے ذریعے جد و جہد کے بعد کچھ پانی حاصل ہوا ہے، لیکن اب جموں و کشمیر کا پانی پنجاب کی طرف موڑنے کی اجازت نہیں دوں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ فی الحال جموں میں پانی کی قلت ہے اور نلکے خشک ہو چکے ہیں۔
میری ترجیح جموں و کشمیر کے لوگوں کو پانی فراہم کرنا ہے اور ہم اکھنور سے جموں تک پانی اٹھانے اور تلبل نیویگیشن بیراج پر کام کر رہے ہیں۔
ریزرویشن کے حوالے سے کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی رپورٹ کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے رپورٹ کو منظور کر کے قانونی جانچ کے لیے محکمہ قانون کو بھیج دی ہے۔
پورے ملک میں مختلف حکومتوں نے ایسی کمیٹیاں بنائیں، لیکن پہلی بار کسی کمیٹی نے مقررہ وقت میں اپنی رپورٹ مکمل کی ہے۔پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی کی طرف سے رپورٹ پر تنقید کے جواب میں عمر نے کہامیرے پاس محبوبہ مفتی کے کئی ایکس پوسٹس موجود ہیں جب وہ اننت ناگ سے پارلیمانی انتخاب لڑ رہی تھیں اور انہوں نے پارٹی رہنماﺅں کو ریزرویشن پر بات نہ کرنے کی ہدایت دی تھی، کیونکہ وہ ووٹ حاصل کرنا چاہتی تھیں۔
ریاستی درجہ بحال کرنے کے حوالے سے عمر نے کہامجھے اب بھی امید ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی جلد اپنا وعدہ پورا کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی طرف
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔