ایسے لوگوں کی تلاش ہے جو کشمیر کاز کو لیکر میرے ساتھ چلیں، سید روح اللہ مہدی
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ اس وقت کشمیر میں منشیات میں کافی نوجوان مبتلا ہے اور یہ منشیات ایک خاص منصوبے کے تحت یہاں پر لایا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ رکن پارلیمنٹ سید روح اللہ مہدی نے آج وادی کشمیر کے شمالی قصبہ سوپور میں ایک پروگرام کے دوران کہا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ کام کرنا چاہیئے ہوں جو ہمیشہ اصول پر کام کرے۔ انہوں نے کہا کہ میں نوجوانوں کے ساتھ سسٹم کو بدلنا چاہتا ہوں کیونکہ ہم سب نے دیکھا ہے کہ جب الیکشن ہوتا ہے تب ایک بات ہوتی ہے اور اس کے بعد الگ بات ہوتی ہے اور یہ سب سے بدقسمتی کی بات ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میں سیاست میں منسٹر بننے کے لئے نہیں آیا ہوں اور اگر میں بات کروں تو مجھے اور میرے لوگوں کو عزت ملنی چاہیئے، اگرچہ انہوں نے براہ راست کسی نئی سیاسی جماعت کے قیام کا اعلان نہیں کیا، لیکن ان کے بیان کے لہجے اور وقت نے اس بات میں کوئی شک نہیں چھوڑا کہ وہ پارٹی اسٹیبلشمنٹ سے الگ ایک آزاد سیاسی اقدام کے لئے زمین تیار کر رہے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ نیشنل کانفرنس کی سوپور یونٹ کا کوئی بھی رکن میٹنگ میں موجود نہیں تھا، ایک واضح غیر موجودگی جس نے سید روح اللہ مہدی اور پارٹی کی قیادت کے درمیان بڑھتی ہوئی رسہ کشی میں اضافہ کیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ تقریب آزادانہ طور پر اور مقامی این سی ڈھانچے کی شمولیت کے بغیر منعقد کی گئی تھی۔ سید روح اللہ مہدی نے کہا کہ اس وقت کشمیر میں منشیات میں کافی نوجوان مبتلا ہے اور یہ منشیات ایک خاص منصوبے کے تحت یہاں پر لایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ منشیات عقل کو تباہ کرتا ہے اور وقت کی ضرورت ہے کہ ہم سب کو مل جل کر اس منشیات کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سید روح اللہ مہدی انہوں نے کہا کہ ہے اور
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔