ملک میں پری مون سون سیزن کا آغاز ، سندھ میں آج سے بارشیں متوقع
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں پری مون سون سیزن کا آغاز ہوگیا اور آئندہ 3 دن کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ سندھ، پنجاب اور کے پی کے کئی علاقے گزشتہ چند دنوں سے سخت گرمی کی لپیٹ میں تھے جبکہ اب پری مون سون سیزن شروع ہوتے ہی گرمی کی شدت کے خاتمے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بلوچستان، پنجاب، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر میں بھی بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ سندھ میں کئی مقامات پر کل سے بارشیں متوقع ہیں،محکمہ موسمیات کی جانب سے بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی اور نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ادھرکراچی میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم مرطوب اور مطلع ابر آلود رہنے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34 سے 36 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کا امکان ہے اور میں نمی کا تناسب 69 فیصد ہے۔ علاوہ ازیں جمعہ کی صبح کراچی کے مختلف علاقوں میں بوندا باندی ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کا امکان ہے
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔