بھارت سے جنگ بندی: پاکستان کی ٹرمپ کو امن کا نوبل انعام دینے کی سفارش
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
بھارت سے جنگ بندی: پاکستان کی ٹرمپ کو امن کا نوبل انعام دینے کی سفارش WhatsAppFacebookTwitter 0 21 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد: حکومت پاکستان نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی ممکن بنانے پر 2026ء کے لیے امن کے نوبل انعام کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نامزدگی کی سفارش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایکس پر اپنے بیان میں حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی برادری نے حال ہی میں بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف بلااشتعال جارحیت کا مشاہدہ کیا جو پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی تھی اور جس کے نتییجے میں خواتین، بچوں اور بزرگوں سمیت معصوم جانوں کا نقصان ہوا۔
بیان میں کہا گیا کہ اپنے دفاع کے بنیادی حق کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان نے آپریشن بنیان مرصوص شروع کیا جو ایک سوچا سمجھا، مضبوط اور درست فوجی جواب تھا اور جس کو احتیاط سے عمل میں لایا گیا تھا تاکہ اپنی علاقائی سالمیت کا دفاع کیا جا سکے، اس دوران یہ بھی خیال رکھا گیا تھا کہ بھارتی شہریوں کی جانوں کو نقصان نہ پہنچے۔
حکومت پاکستان کے اعلامیہ کے مطابق خطے میں جنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسلام آباد اور نئی دہلی سے مؤثر رابطہ قائم کر کے کشیدگی کو کم کیا اور 10 مئی 2025 کو جنگ بندی کروا کر جنوبی ایشیا کو دو جوہری طاقتوں کے درمیان ایک ممکنہ بڑے تصادم سے بچا لیا، یہ جنگ بندی ان کے امن قائم کرنے میں کردار اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کا ثبوت ہے۔
حکومتِ پاکستان صدر ٹرمپ کی جانب سے کشمیر کے دیرینہ مسئلہ کے پائیدار حل میں معاونت کی مخلصانہ کوشش کو نہ صرف سراہتی ہے بلکہ تسلیم بھی کرتی ہے، تنازع کشمیر علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، جموں و کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد پر عملدرآمد کے بغیر جنوبی ایشیا میں دیرپا امن ممکن نہیں۔
حکومت نے بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ کی قیادت سنہ 2025 کے پاکستان بھارت بحران کے دوران اس کی عملی سفارتکاری اور مؤثر امن سازی کی وراثت کے تسلسل کو واضح طور پر پیش کرتی ہے۔ پاکستان کو امید ہے کہ علاقائی اور عالمی استحکام اور خصوصاً مشرق وسطیٰ میں جاری بحرانوں کے خاتمے کے لیے ان کی مخلصانہ کوششیں جاری رہیں گی۔
واضح رہے کہ امریکی صدر نے پاکستان اور بھارت کےدرمیان جنگ بند کرانے پرنوبل پرائز دینے کا مطالبہ کیا ہے۔۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روانڈا، کانگو، سربیا ، کوسوو کیلئے بھی نوبل پرائز دو، نوبل پرائز صرف لبرلز کو ملتا ہے یہ لوگ مجھے نہیں دیں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراین ڈی ایم اے کی آج سے23جون تک ممکنہ موسمی صورتحال کیلئے ایڈوائزری جاری این ڈی ایم اے کی آج سے23جون تک ممکنہ موسمی صورتحال کیلئے ایڈوائزری جاری ایران کو حساس مشینری کی فراہمی کے الزام پر امریکا نے 20اداروں پر پابندیاں عائد کردیں چیئرمین واپڈا جنرل (ر)سجاد غنی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا بھارت سندھ طاس معاہدہ نہیں مانتا تو ایک اور جنگ لڑے ہم دوبارہ اسے شکست دینگے، بلاول بھٹو، سفارتی مشن مکمل کر کے وطن... پاکستان کا سلامتی کونسل کے اجلاس میں ایران کے ساتھ مکمل یکجہتی کے اظہار کا اعلان مشرق وسطی کی صورتحال پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس،ایران اسرائیل فوری جنگ بندی کا مطالبہ
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔