ایران کا اسرائیل پرتازہ جوابی حملہ، فوجی اڈوں،ایٹمی ری ایکٹرکو نشانہ بنانے کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
ایران کا اسرائیل پرتازہ جوابی حملہ، فوجی اڈوں،ایٹمی ری ایکٹرکو نشانہ بنانے کا دعویٰ WhatsAppFacebookTwitter 0 21 June, 2025 سب نیوز
ایران اسرائیل جنگ نویں روزمیں داخل ہوگئی،ایران کی جانب سےاسرائیل پرتازہ جوابی حملہ کیاگیا،آئرن ڈوم ایرانی میزائل روکنےمیں ناکام ہوگئے،مقبوضہ وسطی اورجنوبی فلسطین میں سائرن بج اٹھے،حیفا پرایرانی حملوں میں زخمیوں کی تعداد پینتالیس ہوگئی۔
ایران نے اسرائیل کےفوجی اڈوں اوردمونا میں ایٹمی ری ایکٹرکو بھی نشانہ بنانےکا دعویٰ کیا ہے،ایران کے میزائل حملوں میں وسطی اسرائیل میں عمارت میں آگ بھڑک اٹھی،اسرائیلی جنرل نےانتباہ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ طویل ہوسکتی ہے،عوام تیار رہیں،مزید مشکل دن آنیوالے ہیں۔
ایران کے شہر اصفہان میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں،خیال رہے کہ اصفہان نیوکلیئر ٹیکنالوجی سینٹر ایران کا سب سے بڑا نیوکلیئر ریسرچ کمپلیکس ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی طیاروں نےتہران ،نجف آباد کرَج، اورقم شہرپرحملے کردئیے،جس کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے۔
اسرائیل نے پاسداران انقلاب کے ڈرون ونگ کے کمانڈر کو ہلاک کرنےکا دعویٰ کیا ہے،اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فضائی حملے میں امین پورجودکی ہلاک ہوئے
ایران نے آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی کے خلاف اقوام متحدہ میں شکایت درج کرادی، اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر امیر سعید ایرانی نےایران کی پرامن جوہری سرگرمیوں کے حوالے سے گروسی کے رویے کی مذمت کی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارت سے جنگ بندی: پاکستان کی ٹرمپ کو امن کا نوبل انعام دینے کی سفارش بھارت سے جنگ بندی: پاکستان کی ٹرمپ کو امن کا نوبل انعام دینے کی سفارش این ڈی ایم اے کی آج سے23جون تک ممکنہ موسمی صورتحال کیلئے ایڈوائزری جاری ایران کو حساس مشینری کی فراہمی کے الزام پر امریکا نے 20اداروں پر پابندیاں عائد کردیں چیئرمین واپڈا جنرل (ر)سجاد غنی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا بھارت سندھ طاس معاہدہ نہیں مانتا تو ایک اور جنگ لڑے ہم دوبارہ اسے شکست دینگے، بلاول بھٹو، سفارتی مشن مکمل کر کے وطن... پاکستان کا سلامتی کونسل کے اجلاس میں ایران کے ساتھ مکمل یکجہتی کے اظہار کا اعلان
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔