Express News:
2026-06-03@04:17:49 GMT

جنگیں تباہی و بربادی لاتی ہیں

اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT

ایران نے صیہونی ریاست پر میزائلوں کے حملے جاری رکھے۔ ایران نے پڑوسی خلیجی ممالک کو خبردارکیا ہے کہ امریکا کو حملے کے لیے اپنے زمین دینے پر وہ نشانہ بن سکتے ہیں جب کہ روس نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکا ملوث ہوا تو یہ انتہائی خطرناک اقدام ہوگا۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں 2024 کے دوران تنازعات میں 48 ہزار سے افراد ہلاک ہوئے، جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی،2023 اور 2024 علاقوں میں اکیس ہزار خواتین اور سولہ ہزار بچے مارے گئے جن میں اسی فی صد بچوں کی اموات اور ستر فی صد خواتین کی اموات صرف غزہ میں ریکارڈ کی گئیں۔

 امریکا کی ایران اور اسرائیل جنگ میں متوقع شمولیت کے مشرق وسطیٰ پر اثرات ایک نہایت پیچیدہ اور حساس موضوع ہے جس کا جائزہ سیاسی، اقتصادی، سیکیورٹی اور سماجی اعتبار سے لینا ضروری ہے۔

مشرق وسطیٰ ایک ایسا خطہ ہے جہاں جغرافیائی، نسلی، مذہبی اور سیاسی پیچیدگیاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ یہاں امریکا کی مداخلت اور تعلقات کا ہر اقدام خطے کے امن و استحکام پرگہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ ایران اور اسرائیل کی حیثیت سے دو بڑی طاقتیں خطے کی سیاسی حرکیات میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں اور امریکا کی ان ممالک میں جاری جنگ میں شمولیت، خواہ وہ کسی بھی نوعیت کی ہو، مختلف پیچیدگیوں اور تنازعات کو جنم دے سکتی ہے۔

اگر امریکا حملہ کرتا ہے تو سب سے پہلے ایران کی داخلی سیاست، اقتصادیات اور علاقائی حکمت عملی متاثر ہوگی۔ ایران ایک ایسا ملک ہے جس نے اپنی خود مختاری اور علاقائی اثر و رسوخ کو ہمیشہ اہمیت دی ہے۔ ایران، اسرائیل جنگ میں امریکی شمولیت کے خدشے اور صدر ٹرمپ کی ایران سے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے کی دھمکی کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مشرق وسطیٰ جنگ کی لپیٹ میں آجا ئے گا ؟ کیونکہ ایران نے پہلے ہی خبردارکردیا ہے کہ کسی بھی تیسرے ملک کے ایران پر حملہ کے سنگین نتائج ہوں گے؟ درحقیقت امریکا، اسرائیل کو اسلحہ و بارود کی فراہمی کے حوالے سے سب سے اہم ملک ہے۔

پچھلے پونے دو برس سے اسرائیل کے لیے امریکا نے اپنے اسلحہ گوداموں کے منہ جس طرح کھول رکھے ہیں، یہ غیر معمولی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ہو سکتا ہے کہ یہ جنگ طویل عرصے تک چلے۔ اس صورت میں ان میں سے کئی تجزیہ کاروں کو اسرائیلی شہریوں کی امریکا اور یورپی ملکوں میں بڑی تعداد میں ممکنہ نقل مکانی کے لیے بھی ابھی سے فکر دامن گیر ہونے لگ چکی ہے۔ مگر ابھی اس کا ذکر زبانوں پر نہیں۔ پچھلے لگ بھگ دو برسوں سے امریکا کا اسلحہ بحیرہ احمر میں حوثیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کام آرہا ہے۔

امریکا نے مشرق وسطیٰ میں گزشتہ کئی دہائیوں سے مستقل فوجی موجودگی برقرار رکھی ہوئی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مشرق وسطیٰ میں 19سے زائد مقامات پر امریکا کے فوجی اڈے قائم ہیں جن میں تقریباً 40 سے 50 ہزار فوجی اہلکار تعینات ہیں، ان میں سے 8 مستقل فوجی اڈے ہیں۔ امریکی تھنک ٹینک کونسل آن فارن ریلیشنز کے مطابق، امریکی مستقل اڈوں میں بحرین، مصر، عراق، اردن،کویت، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں، باقی اڈے وقتی نوعیت یا اسٹرٹیجک مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

امریکا کی جنگ میں مداخلت یا شمولیت سے ایران میں سخت ردعمل پیدا ہو سکتا ہے، جو نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھائے گا بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان بھی نیا تصادم پیدا کرسکتا ہے۔ ایران کی حکومت اور اس کے حمایت یافتہ گروہ مشرق وسطیٰ میں ایک مستحکم اور خود مختار سیاسی طاقت کے طور پر ابھرے ہیں۔ امریکا کی شمولیت ایران کے اندر قوم پرستی اور مزاحمت کے جذبے کو ہوا دے سکتی ہے، جس سے خطے میں عدم استحکام میں اضافہ ہوگا۔

اقتصادی طور پر، امریکا کی ایران اور اسرائیل جنگ میں شمولیت خطے کی تیل اورگیس کی مارکیٹوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ مشرق وسطیٰ کی معیشت بڑی حد تک توانائی کے وسائل پر منحصر ہے اور کسی بھی قسم کی سیاسی کشیدگی یا جنگ اقتصادی عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔ ایران کی معیشت پر امریکا کی پابندیاں سخت ہو سکتی ہیں، جس سے ایران کی تجارت متاثر ہوگی اور عالمی توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگی۔

دوسری طرف، اسرائیل کی معیشت پر امریکا کی حمایت مزید مضبوط ہوگی، جس سے علاقائی اقتصادی عدم توازن بڑھ سکتا ہے۔ سیکیورٹی کے حوالے سے امریکا کی شمولیت دونوں ممالک میں عسکری اور خفیہ اداروں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرے گی، جس سے خطے میں عسکری موازنہ مزید سخت ہو سکتا ہے۔

ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کا احتمال بڑھ جائے گا اور اس کا اثر پورے مشرق وسطیٰ کی سلامتی پر پڑے گا۔ مزید یہ کہ امریکا کی فوجی موجودگی خطے میں مختلف مسلح گروہوں اور دہشت گرد تنظیموں کی کارروائیوں کو بھی متاثر کرے گی، جو اپنی جگہ پر ایک نیا عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے۔سماجی اور انسانی پہلوؤں پر بھی اس شمولیت کے اثرات اہم ہوں گے۔

ایران اور اسرائیل کے عوام میں امریکا کی مداخلت کو عمومی طور پر منفی نظر سے دیکھا جاتا ہے، جس سے عوامی ردعمل، احتجاج اور سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ ممکن ہے۔ خاص طور پر ایران میں امریکا کے خلاف عوامی نفرت اور جذباتی ردعمل پیدا ہو سکتا ہے، جو خطے کی سیاسی صورتحال کو مزید بگاڑ سکتا ہے۔ اسرائیل میں بھی امریکا کی شمولیت بعض اوقات مقامی اور بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے مسائل کو مزید اجاگر کر سکتی ہے۔

اگر ہم خطے کے دیگر ممالک کی نظر سے دیکھیں تو امریکا کی ایران اور اسرائیل جنگ میں شمولیت سے عرب ممالک میں بھی کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر خلیجی ممالک ایران کے ساتھ علاقائی تنازعات میں شامل ہیں اور امریکا کی مداخلت ان تنازعات کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ عرب ممالک کے عوام میں بھی امریکا کی مداخلت کے خلاف جذبات پائے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے علاقائی استحکام کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ترکیہ اور روس جیسے دیگر بڑے علاقائی کھلاڑی بھی اس صورتحال سے متاثر ہوں گے اور اپنی حکمت عملیوں میں تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔

مجموعی طور پر امریکا کی ایران اور اسرائیل جنگ میں شمولیت مشرق وسطیٰ میں موجودہ سیاسی، اقتصادی اور سیکیورٹی مسائل کو مزید پیچیدہ اور مشکل بنا سکتی ہے۔ خطے میں امن کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین باہمی احترام، مذاکرات اور سفارتی ذرایع کو ترجیح دیں تاکہ کسی بھی قسم کی کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔

امریکا کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں توازن اور حساسیت کا مظاہرہ کرے تاکہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن و استحکام قائم کیا جا سکے۔ آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ امریکا کی ایران اور اسرائیل جنگ میں شمولیت مشرق وسطیٰ کے لیے ایک نازک موڑ ہے۔ اس سے خطے میں جنگ، امن کی کوششوں میں رکاوٹ اور عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ممکن ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ امریکا، ایران، اسرائیل اور دیگر علاقائی کھلاڑی امن، مفاہمت اور تعاون کی فضا قائم کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں تاکہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن اور ترقی ممکن ہو سکے۔

 دوسری جانب اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ سال گزشتہ میں ہونیوالے تنازعات میں ہلاکتوں کے حوالے سے درد انگیز ہے، تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہ جنگیں انسانی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہیں جو لاکھوں لوگوں کی موت، معاشی تباہی اور سماجی انتشار کا باعث بنتی ہیں۔ جنگوں کی تباہ کاریاں صرف فوجوں تک محدود نہیں ہوتیں، بلکہ اس سے عام شہری، خاص طور پر خواتین اور بچے، اس کا سب سے بڑا شکار ہوتے ہیں۔ صرف پہلی اور دوسری عالمی جنگوں میں ہی کروڑوں افراد ہلاک ہوئے۔

یہ اموات نہ صرف فوجی کارروائیوں کی وجہ سے ہوتی ہیں، بلکہ قحط، بیماریاں اور ناقص طبی سہولیات بھی بڑی تعداد میں اموات کا باعث بنتی ہیں۔ جنگوں کے دوران ملکوں کے معاشی وسائل کو تباہ کردیا جاتا ہے، صنعتیں تباہ ہو جاتی ہیں، اور تجارت معطل ہو جاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں مہنگائی، بیروزگاری اور غربت میں شدید اضافہ ہوتا ہے۔ کئی ممالک جنگوں کے بعد دہائیوں تک معاشی بحران کا شکار رہتے ہیں۔

جنگ کی تباہی کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں سے بے گھر ہو جاتے ہیں۔ لاکھوں افراد پناہ کی تلاش میں دوسرے ممالک کا رخ کرتے ہیں، جس سے مہاجرین کے بحران پیدا ہوتے ہیں۔ یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ جنگ میں کوئی نہیں جیت سکتا، اس میں سب ہار جاتے ہیں۔ فرق یہ ہے کسی کا نقصان کم اورکسی کا زیادہ ہوتا ہے جنگ عالمی سرمایہ داری نظام کے کاروباری مافیا کے مفادات کا کھیل ہے۔ اس وقت دنیا میں تیسری عالمی جنگ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

آج اس خوفناک صورت حال میں تمام بڑی طاقتوں پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ دنیا کو تیسری اور نیوکلیئر ایٹمی جنگ سے بچانے کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کریں، وگرنہ تیسری عالمی جنگ انسانیت اور کرہ ارض کی تباہی کا باعث بنے گی اور یہ انسانیت کے لیے خودکشی کے مترادف ہوگا اور شاید یہی عالمی جنگ دنیا کے لیے قیامت بن جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: امریکا کی مداخلت ہو سکتا ہے کی شمولیت پر امریکا عالمی جنگ کہ امریکا ایران کی کا باعث سکتی ہے کسی بھی پیدا ہو کو مزید کے لیے

پڑھیں:

امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے

اسکردو (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 02 جون 2026ء ) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا اور پورے جی بی کا دورہ کیا اور اسی وقت سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنا جی بی میں نے دیکھا ہے وہ کسی سیاستدان نے نہیں دیکھا۔

ساری جماعتوں کے دورے ملا کر بھی ہمارے دوروں کے مقابلے میں کم ہیں۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کو ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئیں ہیں، بچیوں کو شہید کیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔

(جاری ہے)

جس طرح رمضان میں آیتہ اللہ خامنئی کو ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں ہیں ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو ۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشہ بڑھ گئی ہے اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں کی ترقی اصل ترقی ہے۔

قائد عوام شہید ذوالفقار بھٹو نے کسانوں کو زمین مہیا کی۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے لئے عوام کا نعرہ تھا “بینظیر آئے گی، روزگار لائے گی”۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماﺅوں کی دعاﺅں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کوختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔

آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے Bases کو بند کیا۔ جب حال ہی میں مختلف ممالک میں بم دھماکے ہو رہے تھے تو میں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بم اور شہید بی بی کا ذکر کروں گا تو صدر زرداری کو بھی خراج تحسین پیش کروں گا۔

ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ہر لحاظ سے مضبوط ہو صرف پی پی پی ہی معاشی طور پر یہ کام کر سکتی ہے۔ یہ تین نسلوں کی جدوجہد ہے۔ شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے سرداری نظام ختم کیا۔ FCR کا خاتمہ کیا۔ قائدعوام نے بلتستان کی سرزمین پر کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ گندم اور پٹرول پر سبسیڈی قائدعوام نے دی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ سب کچھ جدوجہد سے حاصل کیا۔

جی بی کو پہلے ناردرن ایریا کہتے تھے صدر زرداری نے جی بی کا نام دیا۔ اب ہم نے مل کر جدوجہد کرکے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کرنا ہے۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔

وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ شہید بی بی نوے کی دہائی میں یہ منصوبہ شروع کرنا چاہتی تھیں لیکن اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ ہم نے یہ منصوبہ 2015 میں شروع کیا اور اس منصوبے کے سربراہ سندھ کے وزیراعلیٰ کو بنایا۔ اس منصوبے میں روزگار کا 80 فیصد تھر کے عوام کو دیا گیا۔

تھر کے منصوبے سے تھرکے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شئیر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ CPEC کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکو ل کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں لیکن دوسرے لوگ غریبوں کا روزگار چھینتے ہیں۔

یہ سمجھتے ہیں کہ امیر کو اور امیر بنائیں گے تو وہ نوکریاں دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔

سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے اور یہ گھر موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔

خواتین کو ان گھروں کا مالک بنایا اور زمین کی یہ منتقلی قائد عوام کے بعد سب سے بڑا منصوبہ ہے کیونکہ یہ زمین بھی خواتین کے نام کر رہے ہیں۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ ہم غریب اور عوام دوست ہیں اسی لئے بی آئی ایس پی اور گھروں کا منصوبہ دیتے ہیں ۔ سندھ میں ہسپتال بنائے، سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یوٹی اور ڈاﺅ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل ، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔

دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشااللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگاکر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔

ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے اور آپ کو معاشی طور پر مضبوط کریں گے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں انہوں نے ڈاکٹر مبشر حسن کو ایک تحقیق کرنے کو کہا تھا جس سے 70 کی دہائی میں یہ بات سامنے آئی کہ جی بی میں ہم 50ہزار میگا واٹ بجلی بنا سکتے ہیں جو ہم بنا کر دکھائیں گے۔ یہ منصوبہ اسلام آباد میں کوئی بیوروکریٹ نہیں ہم اور آپ مل کر بنائیں گے اور اسلام آباد کو بجلی بیچیں گے۔

7تاریخ کو اس صوبے کے عوام کو سوچنا ہے کہ آپس میں لڑ کر کسی اور کو فائدہ نہ پہنچائیں۔ پی پی پی کو بھاری اکثریت ملتی ہے تو ہم مسائل حل کر سکتے ہیں۔ ہم نے سکردو کو وزیراعلی اور گورنر دیا۔ یہ صرف مہدی شاہ کی عزت نہیں بلکہ سکردو کے عوام کی عزت ہے۔ اب میدان میں نئی نسل آگئی ہے اور آپ کے ووٹ اور ساتھ کی وجہ سے توقیر شاہ کو سکردو 1 سے جتوائیں گے۔

آپ سکردو 2 میں محمد علی شاہ کو ووٹ دیںسکردو 3 سے فدا محمد ناشاد کو جتوانا ہے۔ اسکردو4 میں راجہ ناصر علی خان کو منتخب کرنا ہے۔ خرمنگ کے اقبال حسین کو جتوانا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں شگر سے عمران ندیم کو نہیں جیتنے دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ انہیں جتوانا ہے اور گھانچے1 سے ڈاکٹر عاشق حسین کو منتخب کرنا ہے۔ گھانچے 2 میں میری امیدوار آمنہ انصاری ہیں اور گھانچے 3 میں انجینئر محمد اسماعیل ہیں۔

میں چاہتا ہوں کہ انجینئر محمد اسماعیل کے حلقے سے جی بی ہاﺅسنگ اینی شئیٹو شروع کروں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تمام امیدواروں سے ہاتھ کھڑے کروا کر وعدہ لیا کہ وہ منتخب ہوکر عوام کی خدمت کریں گے۔ انہوں نے عوام سے بھی وعدہ لیا کہ 7جون کو تیرپر مہر لگائیں تاکہ شہید قائد عوام اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کیا جا سکے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایو س نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان