Express News:
2026-07-24@01:43:59 GMT

جنگیں تباہی و بربادی لاتی ہیں

اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT

ایران نے صیہونی ریاست پر میزائلوں کے حملے جاری رکھے۔ ایران نے پڑوسی خلیجی ممالک کو خبردارکیا ہے کہ امریکا کو حملے کے لیے اپنے زمین دینے پر وہ نشانہ بن سکتے ہیں جب کہ روس نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکا ملوث ہوا تو یہ انتہائی خطرناک اقدام ہوگا۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں 2024 کے دوران تنازعات میں 48 ہزار سے افراد ہلاک ہوئے، جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی،2023 اور 2024 علاقوں میں اکیس ہزار خواتین اور سولہ ہزار بچے مارے گئے جن میں اسی فی صد بچوں کی اموات اور ستر فی صد خواتین کی اموات صرف غزہ میں ریکارڈ کی گئیں۔

 امریکا کی ایران اور اسرائیل جنگ میں متوقع شمولیت کے مشرق وسطیٰ پر اثرات ایک نہایت پیچیدہ اور حساس موضوع ہے جس کا جائزہ سیاسی، اقتصادی، سیکیورٹی اور سماجی اعتبار سے لینا ضروری ہے۔

مشرق وسطیٰ ایک ایسا خطہ ہے جہاں جغرافیائی، نسلی، مذہبی اور سیاسی پیچیدگیاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ یہاں امریکا کی مداخلت اور تعلقات کا ہر اقدام خطے کے امن و استحکام پرگہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ ایران اور اسرائیل کی حیثیت سے دو بڑی طاقتیں خطے کی سیاسی حرکیات میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں اور امریکا کی ان ممالک میں جاری جنگ میں شمولیت، خواہ وہ کسی بھی نوعیت کی ہو، مختلف پیچیدگیوں اور تنازعات کو جنم دے سکتی ہے۔

اگر امریکا حملہ کرتا ہے تو سب سے پہلے ایران کی داخلی سیاست، اقتصادیات اور علاقائی حکمت عملی متاثر ہوگی۔ ایران ایک ایسا ملک ہے جس نے اپنی خود مختاری اور علاقائی اثر و رسوخ کو ہمیشہ اہمیت دی ہے۔ ایران، اسرائیل جنگ میں امریکی شمولیت کے خدشے اور صدر ٹرمپ کی ایران سے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے کی دھمکی کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مشرق وسطیٰ جنگ کی لپیٹ میں آجا ئے گا ؟ کیونکہ ایران نے پہلے ہی خبردارکردیا ہے کہ کسی بھی تیسرے ملک کے ایران پر حملہ کے سنگین نتائج ہوں گے؟ درحقیقت امریکا، اسرائیل کو اسلحہ و بارود کی فراہمی کے حوالے سے سب سے اہم ملک ہے۔

پچھلے پونے دو برس سے اسرائیل کے لیے امریکا نے اپنے اسلحہ گوداموں کے منہ جس طرح کھول رکھے ہیں، یہ غیر معمولی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ہو سکتا ہے کہ یہ جنگ طویل عرصے تک چلے۔ اس صورت میں ان میں سے کئی تجزیہ کاروں کو اسرائیلی شہریوں کی امریکا اور یورپی ملکوں میں بڑی تعداد میں ممکنہ نقل مکانی کے لیے بھی ابھی سے فکر دامن گیر ہونے لگ چکی ہے۔ مگر ابھی اس کا ذکر زبانوں پر نہیں۔ پچھلے لگ بھگ دو برسوں سے امریکا کا اسلحہ بحیرہ احمر میں حوثیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کام آرہا ہے۔

امریکا نے مشرق وسطیٰ میں گزشتہ کئی دہائیوں سے مستقل فوجی موجودگی برقرار رکھی ہوئی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مشرق وسطیٰ میں 19سے زائد مقامات پر امریکا کے فوجی اڈے قائم ہیں جن میں تقریباً 40 سے 50 ہزار فوجی اہلکار تعینات ہیں، ان میں سے 8 مستقل فوجی اڈے ہیں۔ امریکی تھنک ٹینک کونسل آن فارن ریلیشنز کے مطابق، امریکی مستقل اڈوں میں بحرین، مصر، عراق، اردن،کویت، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں، باقی اڈے وقتی نوعیت یا اسٹرٹیجک مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

امریکا کی جنگ میں مداخلت یا شمولیت سے ایران میں سخت ردعمل پیدا ہو سکتا ہے، جو نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھائے گا بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان بھی نیا تصادم پیدا کرسکتا ہے۔ ایران کی حکومت اور اس کے حمایت یافتہ گروہ مشرق وسطیٰ میں ایک مستحکم اور خود مختار سیاسی طاقت کے طور پر ابھرے ہیں۔ امریکا کی شمولیت ایران کے اندر قوم پرستی اور مزاحمت کے جذبے کو ہوا دے سکتی ہے، جس سے خطے میں عدم استحکام میں اضافہ ہوگا۔

اقتصادی طور پر، امریکا کی ایران اور اسرائیل جنگ میں شمولیت خطے کی تیل اورگیس کی مارکیٹوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ مشرق وسطیٰ کی معیشت بڑی حد تک توانائی کے وسائل پر منحصر ہے اور کسی بھی قسم کی سیاسی کشیدگی یا جنگ اقتصادی عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔ ایران کی معیشت پر امریکا کی پابندیاں سخت ہو سکتی ہیں، جس سے ایران کی تجارت متاثر ہوگی اور عالمی توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگی۔

دوسری طرف، اسرائیل کی معیشت پر امریکا کی حمایت مزید مضبوط ہوگی، جس سے علاقائی اقتصادی عدم توازن بڑھ سکتا ہے۔ سیکیورٹی کے حوالے سے امریکا کی شمولیت دونوں ممالک میں عسکری اور خفیہ اداروں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرے گی، جس سے خطے میں عسکری موازنہ مزید سخت ہو سکتا ہے۔

ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کا احتمال بڑھ جائے گا اور اس کا اثر پورے مشرق وسطیٰ کی سلامتی پر پڑے گا۔ مزید یہ کہ امریکا کی فوجی موجودگی خطے میں مختلف مسلح گروہوں اور دہشت گرد تنظیموں کی کارروائیوں کو بھی متاثر کرے گی، جو اپنی جگہ پر ایک نیا عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے۔سماجی اور انسانی پہلوؤں پر بھی اس شمولیت کے اثرات اہم ہوں گے۔

ایران اور اسرائیل کے عوام میں امریکا کی مداخلت کو عمومی طور پر منفی نظر سے دیکھا جاتا ہے، جس سے عوامی ردعمل، احتجاج اور سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ ممکن ہے۔ خاص طور پر ایران میں امریکا کے خلاف عوامی نفرت اور جذباتی ردعمل پیدا ہو سکتا ہے، جو خطے کی سیاسی صورتحال کو مزید بگاڑ سکتا ہے۔ اسرائیل میں بھی امریکا کی شمولیت بعض اوقات مقامی اور بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے مسائل کو مزید اجاگر کر سکتی ہے۔

اگر ہم خطے کے دیگر ممالک کی نظر سے دیکھیں تو امریکا کی ایران اور اسرائیل جنگ میں شمولیت سے عرب ممالک میں بھی کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر خلیجی ممالک ایران کے ساتھ علاقائی تنازعات میں شامل ہیں اور امریکا کی مداخلت ان تنازعات کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ عرب ممالک کے عوام میں بھی امریکا کی مداخلت کے خلاف جذبات پائے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے علاقائی استحکام کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ترکیہ اور روس جیسے دیگر بڑے علاقائی کھلاڑی بھی اس صورتحال سے متاثر ہوں گے اور اپنی حکمت عملیوں میں تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔

مجموعی طور پر امریکا کی ایران اور اسرائیل جنگ میں شمولیت مشرق وسطیٰ میں موجودہ سیاسی، اقتصادی اور سیکیورٹی مسائل کو مزید پیچیدہ اور مشکل بنا سکتی ہے۔ خطے میں امن کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین باہمی احترام، مذاکرات اور سفارتی ذرایع کو ترجیح دیں تاکہ کسی بھی قسم کی کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔

امریکا کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں توازن اور حساسیت کا مظاہرہ کرے تاکہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن و استحکام قائم کیا جا سکے۔ آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ امریکا کی ایران اور اسرائیل جنگ میں شمولیت مشرق وسطیٰ کے لیے ایک نازک موڑ ہے۔ اس سے خطے میں جنگ، امن کی کوششوں میں رکاوٹ اور عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ممکن ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ امریکا، ایران، اسرائیل اور دیگر علاقائی کھلاڑی امن، مفاہمت اور تعاون کی فضا قائم کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں تاکہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن اور ترقی ممکن ہو سکے۔

 دوسری جانب اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ سال گزشتہ میں ہونیوالے تنازعات میں ہلاکتوں کے حوالے سے درد انگیز ہے، تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہ جنگیں انسانی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہیں جو لاکھوں لوگوں کی موت، معاشی تباہی اور سماجی انتشار کا باعث بنتی ہیں۔ جنگوں کی تباہ کاریاں صرف فوجوں تک محدود نہیں ہوتیں، بلکہ اس سے عام شہری، خاص طور پر خواتین اور بچے، اس کا سب سے بڑا شکار ہوتے ہیں۔ صرف پہلی اور دوسری عالمی جنگوں میں ہی کروڑوں افراد ہلاک ہوئے۔

یہ اموات نہ صرف فوجی کارروائیوں کی وجہ سے ہوتی ہیں، بلکہ قحط، بیماریاں اور ناقص طبی سہولیات بھی بڑی تعداد میں اموات کا باعث بنتی ہیں۔ جنگوں کے دوران ملکوں کے معاشی وسائل کو تباہ کردیا جاتا ہے، صنعتیں تباہ ہو جاتی ہیں، اور تجارت معطل ہو جاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں مہنگائی، بیروزگاری اور غربت میں شدید اضافہ ہوتا ہے۔ کئی ممالک جنگوں کے بعد دہائیوں تک معاشی بحران کا شکار رہتے ہیں۔

جنگ کی تباہی کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں سے بے گھر ہو جاتے ہیں۔ لاکھوں افراد پناہ کی تلاش میں دوسرے ممالک کا رخ کرتے ہیں، جس سے مہاجرین کے بحران پیدا ہوتے ہیں۔ یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ جنگ میں کوئی نہیں جیت سکتا، اس میں سب ہار جاتے ہیں۔ فرق یہ ہے کسی کا نقصان کم اورکسی کا زیادہ ہوتا ہے جنگ عالمی سرمایہ داری نظام کے کاروباری مافیا کے مفادات کا کھیل ہے۔ اس وقت دنیا میں تیسری عالمی جنگ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

آج اس خوفناک صورت حال میں تمام بڑی طاقتوں پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ دنیا کو تیسری اور نیوکلیئر ایٹمی جنگ سے بچانے کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کریں، وگرنہ تیسری عالمی جنگ انسانیت اور کرہ ارض کی تباہی کا باعث بنے گی اور یہ انسانیت کے لیے خودکشی کے مترادف ہوگا اور شاید یہی عالمی جنگ دنیا کے لیے قیامت بن جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: امریکا کی مداخلت ہو سکتا ہے کی شمولیت پر امریکا عالمی جنگ کہ امریکا ایران کی کا باعث سکتی ہے کسی بھی پیدا ہو کو مزید کے لیے

پڑھیں:

گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری

 گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔

محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔

مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔

روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔

استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری

استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔

ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔

حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران