اسرائیلی حملوں سے ایران میں اب تک کتنے افراد جاں بحق اور زخمی ہوچکے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران: مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے دوران اسرائیلی حملوں میں ایران میں اب تک کم از کم 430 افراد جاں بحق اور 3500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے اعداد و شمار کے مطابق ایران پر 13 جون سے جاری اسرائیلی فضائی اور میزائل حملوں میں اب تک کم از کم 430 ایرانی شہری شہید ہو چکے ہیں جب کہ زخمیوں کی تعداد 3 ہزار 500 سے تجاوز کر چکی ہے، جاں بحق ہونے والوں میں خواتین، بچے، معمر افراد اور متعدد سرکاری اہلکار بھی شامل ہیں۔
گزشتہ روز جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیل کی کارروائیوں کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے ایرانی عوام پر بلااشتعال جنگ مسلط کی ہے، جو عالمی امن، بین الاقوامی قوانین اور جنیوا کنونشن کی صریح خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا سنگین جنگی جرم ہے اور عالمی برادری کو اسرائیل کو لگام دینے کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔
وزیر خارجہ نے انکشاف کیا کہ 15 جون کو ایران اور امریکا کے درمیان جوہری معاہدے پر فیصلہ کن مذاکرات طے تھے، تاہم عین اس موقع پر اسرائیل کا حملہ سفارتی کوششوں سے کھلی غداری کے مترادف تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نہ صرف ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنا رہا ہے بلکہ دانستہ طور پر معصوم شہریوں اور بنیادی تنصیبات کو بھی تباہ کر رہا ہے۔
عباس عراقچی نے عالمی قوتوں سے اپیل کی کہ وہ ایران کے خلاف جاری اسرائیلی جارحیت کا فوری نوٹس لیں اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو بڑھنے سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔