data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نیو جرسی : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیل ایران کی حساس اور زیرزمین جوہری تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔

 ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق نیو جرسی میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اگرچہ کچھ سطحی نقصان پہنچا سکتا ہے، مگر گہرائی میں موجود تنصیبات اس کی پہنچ سے باہر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ سے امن کے داعی رہے ہیں، تاہم بعض اوقات امن کو محفوظ رکھنے کے لیے سخت فیصلے ناگزیر ہو جاتے ہیں

صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی ان کا “آخری اور ناپسندیدہ آپشن” ہوگا۔ ان کے الفاظ میں: “زمینی افواج بھیجنا ایسا قدم ہے جو کوئی نہیں چاہتا۔ یہ صرف اسی وقت ہوگا جب کوئی دوسرا راستہ نہ بچے۔

ایران کو دی جانے والی مہلت کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے تہران کو محدود وقت دینا چاہتے ہیں۔ “میرے خیال میں، فیصلہ کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ دو ہفتے درکار ہوں گے، اس سے زیادہ نہیں۔

ایران کے حساس جوہری مرکز “فورڈو” کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل کے پاس فورڈو جیسے گہرائی میں بنے ہوئے مراکز کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ وہ کسی حد تک نقصان پہنچا سکتے ہیں، لیکن وہ اتنی گہرائی تک نہیں جا سکتے جہاں یہ تنصیبات موجود ہیں۔

تاہم امریکی صدر نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ شاید ایسی کوئی فوجی کارروائی درکار ہی نہ پڑے۔ ان کے بقول، ممکن ہے ہم اس مقام تک نہ پہنچیں اور کسی بڑی مداخلت کی نوبت نہ آئے۔ ٹرمپ کے اس بیان کو مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی میں اہم سفارتی اشارہ قرار دیا جا رہا ہے، جو ممکنہ طور پر اسرائیل کی عسکری حکمت عملی اور امریکا کی پوزیشن پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل