بینظیر ہنرمند پروگرام سے عام لوگوں کو با اختیار بنانا چاہتے ہیں: صدر مملکت
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ بینظیر ہنرمند پروگرام کے ذریعے عام لوگوں کو با اختیار بنانا چاہتے ہیں، ہم جدید ٹیکنالوجی کو لوگوں تک منتقل کریں گے۔
ایوان صدر میں بینظیر ہنرمند پروگرام کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی کے اجرا میں نوید قمر کی کاوشیں قابل ستائش ہیں، پروگرام کے تحت بچوں اور بچیوں کو تعلیم سمیت تمام حقوق فراہم کیے جا رہے ہیں۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ پروگرام کے ذریعے قوم کے بچوں اور بچیوں کو ہنرمند بنایا جائے گا، بینظیر ہنرمند پروگرام کے تحت کمپیوٹر، جدید تعلیم اور ہنر سکھائے جائیں گے۔
صدر مملکت نے کہا کہ ہنر سیکھ کر نوجوان دیارغیر میں ملک کا نام روشن کریں گے، ہنرمند پروگرام کے ذریعے جرمن اور چینی زبانیں بھی سکھائی جائیں گی۔
آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ بیرون ملک نرسنگ جیسے شعبے کی بڑی مانگ ہے، بچیوں کو نرسنگ جیسے شعبے میں تربیت فراہم کی جائے گی۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ اور اتحاد امت فورم کے رہنما علامہ سید جواد نقوی نے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب سے ملاقات کی اور ان کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت و تسلیت، فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی۔ علامہ سید جواد نقوی نے علامہ سید ساجد علی نقوی کیساتھ 13 جون کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والی ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔