وزیراعلیٰ جب چاہیں پختونخوا اسمبلی تحلیل کر سکتے ہیں، ترجمان صوبائی حکومت
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
اپنے بیان میں بیرسٹر سیف نے کہا کہ عمران خان سے مشاورت کے بغیر خیبر پختونخوا کا بجٹ منظور نہیں ہوگا۔ عوام نے عمران خان کے نظریے کو ووٹ دیا ہے، اس لیے بجٹ بھی اُن کی مشاورت ہی سے منظور ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ ترجمان خیبر پختونخوا حکومت بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور جب چاہیں صوبائی اسمبلی تحلیل کر سکتے ہیں۔ اپنے بیان میں بیرسٹر سیف نے کہا کہ عمران خان سے مشاورت کے بغیر خیبر پختونخوا کا بجٹ منظور نہیں ہوگا۔ عوام نے عمران خان کے نظریے کو ووٹ دیا ہے، اس لیے بجٹ بھی اُن کی مشاورت ہی سے منظور ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی بھی قسم کی ایمرجنسی نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو جعلی حکومت ایک دن بھی نہیں چل سکے گی۔ عوام اپنے مینڈیٹ کی توہین کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔
بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار صرف وزیراعلیٰ کے پاس ہے۔ وہ جب چاہیں اسمبلی تحلیل کر سکتے ہیں۔ خیبر پختونخوا واحد صوبہ ہے جہاں فارم 45 کی بنیاد پر حقیقی حکومت قائم ہے جب کہ وفاقی و دیگر صوبائی حکومتیں فارم 47 کے جعلی مینار پر لڑکھڑاتی کھڑی ہیں۔ صوبائی مشیر کا کہنا تھا کہ جعلی حکومتوں کو گرانے کے لیے صرف ایک دھکا کافی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل بیرسٹر سیف نے کہا
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔