وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی کسی بھی وقت اسمبلی تحلیل کرنے کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
جب تک انہیں پارٹی بانی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی، وہ بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے
سازشوں کے ذریعے خیبر پختونخوا حکومت کو گرانے کی کوشش کی جا رہی ہے، گنڈا پور کاویڈیو بیان
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ کسی بھی وقت اسمبلی تحلیل کر سکتا ہوں۔بجٹ کے معاملے پر ہمیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ سازشوں کے ذریعے خیبر پختونخوا کی حکومت کو گرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ویڈیو بیان میں علی امین گنڈا پور نے کہا کہ اگر ہم بجٹ پاس نہیں کرتے تو وفاق فنانشل ایمرجنسی کی بنیاد پر صوبے کا کنٹرول سنبھال سکتا ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ گورنر نے بجٹ اجلاس کے لیے بھیجی گئی سمری بھی منظور نہیں کی تھی، اگر کٹ موشنز پر ووٹنگ شروع ہو گئی تو بجٹ منظور کرنے کا عمل شروع ہو جائے گا، بجٹ پر مشاورت کیلئے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کروائی جا رہی،بجٹ پر بانی پی ٹی آئی کے ساتھ مشاورت اور ان کی منظوری ان کا سیاسی حق ہے، بانی پی ٹی آئی کی منظوری کے بعد ہی خیبر پختونخوا کا بجٹ منظور کروایا جائے گا، انہوں نے کہا کہ میں یہ سازش کامیاب نہیں ہونے دوں گا۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ ہم اس نظام کے خلاف تحریک چلائیں گے، یہ نظام مزید نہیں چل سکتا، ہم ایسے نظام کو چلنے نہیں دیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی خیبر پختونخوا نے کہا کہ جا رہی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔