Express News:
2026-06-03@08:10:29 GMT

خشک سالی کا عالمی دن اور پاکستان

اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT

ہر سال 17 جون کو ’’خشک سالی ‘‘ کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ دنیا بھر میں زمینی انحطاط (Land Degradation) اور پانی کی قلت کے بڑھتے ہوئے خطرات سے آگاہی پھیلائی جا سکے۔ 2025 کے اس دن کا موضوع ہے: ’’ زمین کو بحال کریں، مواقع کو اجاگرکریں۔‘‘ اس دن کو منانے کا مقصد ہے زمین کی حفاظت، کسانوں کی بہتری اور پائیدار ترقی کی راہ ہموارکرنا۔

 ایک اندازے کے مطابق 1970سے اب تک دنیا کے 75 فیصد زمینی رقبے پر زمین کی زرخیزی میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ہر سیکنڈ میں اوسطاً چار فٹ بال میدانوں کے برابر زمین خراب ہو رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق زمین کی تباہی عالمی معیشت کو سالانہ 44 ٹریلین ڈالر کے قریب نقصان پہنچاتی ہے۔ عالمی سطح پر تقریباً ایک ارب ہیکٹر زمین بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں، جس پر 1.

6 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کی لاگت آئے گی۔

2022 میں جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی رپورٹ‘‘Global Drought Risk and Adaptation Report’’کے مطابق پاکستان کا شمار دنیا کے ان ملکوں میں ہوتا ہے جو خشک سالی کے شدید خطرے سے دوچار ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے تحت جاری کردہ عالمی تجزیاتی رپورٹس کے مطابق پاکستان نہ صرف خشک سالی کے تیزی سے بڑھتے اثرات کا سامنا کر رہا ہے بلکہ ماحولیاتی لحاظ سے وہ جنوبی ایشیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں آبی وسائل خطرناک حد تک سکڑ رہے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے ان 23 ممالک میں شامل ہے جو خشک سالی کے شدید خطرے سے دوچار ہیں جب کہ ملک کی 80% زرعی زمین کا انحصار بارش پر ہے۔ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں بھی شامل ہے جہاں پانی کی دستیابی خطرناک حد تک کم ہوچکی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق ملک میں فی کس پانی کی دستیابی 900 کیوبک میٹر سے بھی کم ہے، جو عالمی معیار (1700 کیوبک میٹر) سے بہت نیچے ہے جب کہ پاکستان کے پاس صرف 30 دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے، ماہرین کے مطابق اس بھی کمی آتی جا رہی ہے۔ دوسری جانب ہمارا پڑوسی ملک بھارت جس نے پاکستان پر آبی جارحیت مسلط کر رکھی ہے، وہ پانی 190 دن ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔

سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب ہمارے سب سے زیادہ متاثرہ علاقے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ادارے UNCCD کے مطابق پاکستان کو فوری اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ زمین کے بنجر ہونے، پانی کی قلت اور خوراک کی عدم دستیابی جیسے خطرات سے بچا جا سکے۔ بلوچستان، سندھ اور جنوبی پنجاب وہ علاقے ہیں جو شدید خشک سالی کی زد میں رہتے ہیں۔

بلوچستان کے 26 اضلاع میں تقریباً 1.5 ملین افراد خشک سالی سے براہِ راست متاثر ہیں۔ ہزاروں مویشی ہلاک ہو چکے ہیں اور فصلوں کی پیداوار میں زبردست کمی آئی ہے۔

موسمی پیٹرن کی تبدیلی،گلیشیئرز کے پگھلاؤ اور غیر متوقع بارشوں کی وجہ سے پاکستان میں خشک سالی اور سیلاب دونوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں سندھ اور بلوچستان میں مون سون بارشوں میں 67 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔

پاکستان کا شمار ان 10 ممالک میں ہوتا ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ شہری علاقوں میں شدید گرمی، فضائی آلودگی اور ناقص نکاسی آب کا نظام بھی ماحولیاتی دباؤ میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ ماحولیاتی تنزلی کا براہِ راست اثر پانی کے وسائل، زراعت، جنگلات اور انسانی صحت پر پڑ رہا ہے۔

اگر چہ اس ضمن میں حکومتی سطح پر کئی منصوبوں پر کام جاری ہے جیسےLiving Indus کے تحت دریائے سندھ کے ماحولیاتی نظام کی بحالی ، حکومت نے 1.5 بلین درخت لگائے، جب کہ بلوچستان اور سندھ میں متاثرہ افراد کے لیے خصوصی ریلیف پیکیجزجاری کیے گئے ہیں جن میں چارہ، ادویات اور پینے کا صاف پانی شامل ہے۔ پی ایم ڈی نے خشک سالی کی مانیٹرنگ اور وارننگ کے لیے نیا نظام متعارف کرایا ہے۔

اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمیں قومی سطح پر اس حوالے سے مزید اقدامات اٹھانا ہوں گے جن میں زمین کی بحالی میں سرمایہ کاری، ریجنریٹو ایگریکلچر اور زمین کی زرخیزی بڑھانے والے طریقوں کو فروغ دینا، پانی کی منصفانہ تقسیم، ڈرپ ایریگیشن، رین واٹر ہارویسٹنگ اور گھریلو استعمال میں بچت پر توجہ دینا۔

قانون سازی اور پالیسیز کے ذریعے پانی کے منصفانہ استعمال اور زمین کے تحفظ سے متعلق مؤثر قوانین کا نفاذ۔ اسکولوں، کالجوں اور کمیونٹی لیول پر آگاہی مہمات چلانا۔ اقوام متحدہ اور عالمی مالیاتی اداروں کے تعاون سے بڑے پیمانے پر زمین کی بحالی اور پانی کے انتظام کے منصوبے شروع کرنا۔

پاکستان کا اقوامِ متحدہ کی خشک سالی سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں شامل ہونا ایک تشویشناک اشارہ ہے، جو نہ صرف ماحولیاتی بلکہ غذائی، معاشی اور سماجی سلامتی پر بھی اثرانداز ہو رہا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا ہو گا کہ خشک سالی صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ سماجی، معاشی اور صحت کا بحران بھی ہے۔ پاکستان جیسے زرعی ملک کے لیے یہ ایک انتباہ ہے کہ اگر اب بھی اقدامات نہ کیے گئے تو خوراک، پانی اور معیشت تینوں کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

 خشک سالی کا عالمی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زمین کی بحالی صرف زمین کا نہیں، انسانیت کا مسئلہ ہے، اگر ہم آج زمین کے تحفظ کے لیے کھڑے نہیں ہوئے توکل زمین بھی ہمیں جواب نہیں دے گی۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے مطابق پاکستان خشک سالی کی بحالی شامل ہے پانی کی زمین کی دنیا کے رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب

بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب ہو گئے ہیں جسے عالمی سفارت کاری میں بنگلہ دیش کے لیے ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کے وزیر برائے چٹاگانگ ہل ٹریکٹس افیئرز خرابی صحت کے باعث مستعفی

منگل کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں ہونے والے انتخاب میں ڈاکٹر خلیل الرحمان نے قبرص کے امیدوار کو شکست دے کر یہ اہم منصب حاصل کیا۔

مبصرین کے مطابق یہ کامیابی عالمی سطح پر بنگلہ دیش کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار، کثیرالجہتی تعاون اور بین الاقوامی اداروں میں اس کی مضبوط ہوتی ساکھ کا مظہر ہے۔

وزیراعظم طارق رحمان نے ڈاکٹر خلیل الرحمان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کا انتخاب عالمی سطح پر بنگلہ دیش کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور مثبت کردار کا اعتراف ہے۔

مزید پڑھیے: سابق صدر بنگلہ دیش ضیاء الرحمان کی 45ویں برسی: صاحبزادے و وزیراعظم طارق رحمان کا خراج عقیدت

اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کا صدر منتخب ہونے پر وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اس اہم منصب پر بنگلہ دیش کی بہترین نمائندگی کریں گے اور عالمی برادری کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے رابطوں، مکالمے اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں یقین ہے کہ وہ بنگلہ دیش کا نام مزید روشن کریں گے اور عالمی مسائل کے حل کے لیے تعاون اور ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم ان کی نئی ذمہ داریوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں۔‘

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں چمڑے کی منڈی بحران کا شکار، مدارس اور یتیم خانوں کو خسارہ، وجہ کیا ہے؟

ڈاکٹر خلیل الرحمان جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے باقاعدہ آغاز پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ اس حیثیت میں وہ عالمی امن و سلامتی، پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی، عالمی حکمرانی اور دیگر اہم بین الاقوامی امور پر ہونے والے مباحث اور اجلاسوں کی صدارت کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان نے ڈاکٹر خلیل الرحمان خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب طارق رحمان کی ڈاکٹر خلیل رحمان کو مبارکباد

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا