سابق وزیراعظم آزاد کشمیر کا ساتھیوں اور حامیوں سمیت پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
فوٹو بشکریہ فیس بُک
آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان، ایم ایل اے علی شان سونی اور سردار احمد صغیر نے اپنے ساتھیوں اور حامیوں سمیت پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔
ترجمان زرداری ہاؤس کے مطابق شمولیت اختیار کرنے والے افراد نے صدر مملکت آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا۔
پیپلز پارٹی شعبۂ خواتین کی مرکزی صدر و رکنِ سندھ اسمبلی فریال تالپور سے آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان نے زرداری ہاؤس کراچی میں ملاقات کی۔
ملاقات میں علی شان سونی اور سردار احمد صغیر بھی شریک تھے۔
ترجمان زرداری ہاؤس کے مطابق ملاقات میں سردار تنویر الیاس خان، علی شان سونی اور سردار احمد صغیر نے اپنے ساتھیوں اور حامیوں سمیت پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔
سردار تنویر الیاس نے اس موقع پر کہا کہ کشمیر کاز کے لیے قائدِ عوام شہید بھٹو، شہید محترمہ بینظیر بھٹو، صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی کاوشیں بے مثال ہیں۔
فریال تالپور نے سردار تنویر الیاس خان، علی شان سونی اور سردار احمد صغیر اور ان کے ساتھیوں کو پیپلز پارٹی میں شمولیت پر خوش آمدید کہا۔
فریال تالپور نے کہا کہ پیپلز پارٹی ملک کی واحد جماعت ہے جس کی بنیاد ہی مسئلہ کشمیر پر رکھی گئی تھی، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ملک کا وزیراعظم بنے گا تو آزاد کشمیر کی عوام کی بے مثال ترقی و بہبود اور مقبوضہ کشمیر کی بھارت سے آزادی کا خواب حقیقت بنے گا۔
اس موقع پر گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سندھ کے وزیرِ داخلہ ضیاء الحسن النجار، سردار یعقوب خان، چوہدری محمد ریاض اور ضیاء القمر بھی موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: علی شان سونی اور سردار احمد صغیر پیپلز پارٹی میں شمولیت سردار تنویر الیاس خان
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔