سونے کی قیمت میں ایک بار پھر بڑااضافہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
کراچی(کامرس ڈیسک)بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں 3 ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق سونے کی قیمت میں 3 ڈالر کے اضافےکے بعد فی اونس سونا 3,330 ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا۔ اس عالمی رجحان کے اثرات مقامی صرافہ مارکیٹ میں بھی دیکھے گئے، جہاں سونے کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا۔
پاکستانی مارکیٹ میں بدھ کے روز 24 قیراط خالص سونے کی فی تولہ قیمت 300 روپے اضافے کے ساتھ 3 لاکھ 54 ہزار 65 روپے تک پہنچ گئی۔ اسی طرح فی 10 گرام سونا 237 روپے مہنگا ہو کر 3 لاکھ 4 ہزار 68 روپے میں فروخت ہوا۔
دوسری جانب چاندی کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔ فی تولہ چاندی کی قیمت 26 روپے کم ہو کر 3 ہزار 764 روپے پر آ گئی، جب کہ فی 10 گرام چاندی کی قیمت 22 روپے کمی کے بعد 3 ہزار 227 روپے ریکارڈ کی گئی۔
29 مزیدپڑھیں:سالہ ائیرہوسٹس سے تعلقات؛ 17 سالہ فٹبالر نے خبروں پر خاموشی توڑ دی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: سونے کی قیمت
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔