اسرائیلی حملے میں زخمی ہونے والے ایرانی چیف کمانڈر علی شادمانی دم توڑ گئے
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
ایران کے مرکزی فوجی ہیڈکوارٹر خاتم الانبیا نے تصدیق کی ہے کہ ادارے کے سربراہ کمانڈر علی شادمانی، جو حالیہ اسرائیلی فضائی حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے، زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیلی میں شہید ہونے والے ایرانی ملٹری چیف جنرل باقری کون تھے؟
چینی خبر رساں ایجنسی شِنہوا کے مطابق کمانڈر شادمانی گزشتہ ہفتے اسرائیلی فضائی حملے میں زخمی ہوئے تھے۔ انہوں نے حال ہی میں جنرل غلام علی رشید کی جگہ یہ عہدہ سنبھالا تھا۔ نیم سرکاری ایرانی خبر ایجنسی تسنیم کے مطابق، ان کی حالت حملے کے بعد سے تشویشناک تھی۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ گزشتہ ہفتے تہران کے مرکزی کمانڈ سینٹر پر رات گئے کیے گئے حملے میں علی شادمانی کو ہدف بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں وہ مارے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:جنگ یا نسل کشی؟ ایران میں سائنسدانوں کے اہلِ خانہ کی ٹارگٹ کلنگ
یاد رہے کہ 13 جون کو اسرائیل نے ایران کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے تھے، جن میں جوہری اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں کئی اعلیٰ ایرانی فوجی افسران، جوہری سائنس دان اور متعدد شہری جاں بحق ہوئے تھے۔ ایران نے اس کے جواب میں اسرائیل پر کئی میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن سے بھاری جانی و مالی نقصان ہوا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: علی شادمانی حملے میں
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔