غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، مزید 78 فلسطینی شہید، امدادی مراکز بھی نشانہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
اسرائیلی افواج کی غزہ پر بربریت کا سلسلہ بدستور جاری ہے، بدھ کی صبح سے ہونے والے تازہ فضائی اور زمینی حملوں میں مزید 78 فلسطینی شہید ہو گئے۔
عرب میڈیا کے مطابق، غزہ کے مختلف اسپتالوں سے موصول ہونے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ شہدا میں 14 بے گھر فلسطینی بھی شامل ہیں جو امداد کے حصول کے لیے قطار میں کھڑے تھے۔
غزہ کے طبی ذرائع کے مطابق وسطی غزہ میں ایک امدادی مرکز کے قریب اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے بڑی تعداد میں شہری جاں بحق ہوئے۔
غزہ کی مقامی حکومت کا کہنا ہے کہ صرف مئی 2025 سے اب تک اسرائیل نے امدادی مراکز پر حملوں میں 500 سے زائد فلسطینی شہید کیے ہیں۔
دوسری جانب جنوبی غزہ کے خان یونس میں حماس کی جوابی کارروائی میں ایک اسرائیلی بکتر بند گاڑی کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیا گیا، جس میں 7 صہیونی فوجی ہلاک ہوئے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تازہ بیان میں کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کی طرف پیش رفت ہو رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان تقریباً دو سال سے جاری جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا