عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر کا کہنا تھا کہ ”آخری دو دن اسرائیل پر بہت بھاری گزرے، ایرانی بیلسٹک میزائلوں نے تل ابیب سمیت کئی شہروں میں تباہی مچائی، متعدد عمارتیں زمیں بوس ہو گئیں۔“ اسلام ٹائمز۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آخری دو دن میں اسرائیل کو بڑی مار پڑی، ایرانی بیلسٹک میزائلوں نے اسرائیل کی متعدد عمارتوں کو تباہ کردیا تھا، صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران اسرائیل جنگ سے پہلے غزہ میں جنگ بندی کے قریب تھے، امید ہے اب جلد پیشرفت ہوگی۔ امریکی صدر نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں ایران کی جانب سے شدید میزائل حملوں کے بعد جنگ بندی کے لیے امریکا کے آگے ہاتھ جوڑے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر کا کہنا تھا کہ ”آخری دو دن اسرائیل پر بہت بھاری گزرے، ایرانی بیلسٹک میزائلوں نے تل ابیب سمیت کئی شہروں میں تباہی مچائی، متعدد عمارتیں زمیں بوس ہو گئیں۔“

انہوں نے مزید بتایا کہ اگرچہ ایران اور اسرائیل کے درمیان براہ راست جنگ شروع ہونے کے امکانات بڑھ رہے تھے، لیکن غزہ میں جنگ بندی قریب آچکی تھی۔ صدر نے دو ٹوک کہا کہ ایران کے میزائل حملوں نے اسرائیل کی دفاعی صلاحیت پر سوال اٹھا دیے، جس کے بعد امریکا نے ٹوماہاک ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے جوابی کارروائی کی۔ ”اسرائیل اس سطح کی ٹیکنالوجی رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا،“۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے فردو جوہری مرکز پر حملے نے وہاں ”تباہی کے سوا کچھ نہیں چھوڑا“۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہوسکتی ہیں، لیکن خطے میں پائیدار امن کے لیے امریکا، ایران اور اسرائیل کو غیر معمولی فیصلے کرنا ہوں گے۔  

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جنگ بندی کے کے لیے

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کا قشم جزیرہ امریکی فوج کے نشانے پر کیوں ہے؟
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان