حماس نے جنگ بندی مذاکرات میں تیزی کی تصدیق کر دی
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ تنازع کے حل کے لیے پیش رفت کے دعوے کے بعد، فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے بھی جنگ بندی مذاکرات میں تیزی آنے کی تصدیق کر دی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، حماس کے ایک سینئر رہنما نے بدھ کے روز بتایا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے مذاکرات حالیہ گھنٹوں میں تیز ہو گئے ہیں۔
حماس کے ترجمان طاہر النونو نے کہا، ’’مصر اور قطر میں موجود ہمارے ثالث بھائیوں کے ساتھ روابط پہلے سے قائم تھے، لیکن حالیہ گھنٹوں میں یہ مزید مضبوط اور سرگرم ہو گئے ہیں۔‘‘
تاہم طاہر النونو نے واضح کیا کہ ابھی تک حماس کو جنگ بندی کے لیے کوئی نئی باضابطہ تجاویز موصول نہیں ہوئیں۔
یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے ایک اہم معاہدہ چند دنوں میں ممکن ہے۔ امریکی ثالث بشارة بہبہ کے مطابق جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی پر پیش رفت جاری ہے۔
مصر اور قطر گزشتہ کئی ماہ سے اسرائیل اور حماس کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حماس کے
پڑھیں:
واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
اسرائیل کی جانب سے لبنان پر خون ریز حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں شروع ہونے والے مذاکرات جنگ بندی مذاکرات کا تسلسل اور چوتھا دور ہے۔
لبنان کی سرکاری خبرایجنسی نے بتایا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز میں شروع ہوگئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے لیے دونوں فریق کے نمائندے واشنگٹن پہنچے، جس کے بعد مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو لبنان پر حملوں کے حوالے سے ٹیلی فون پر سخت الفاظ کا استعمال کیا تھا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو پاگل قرار دیا اور کہا کہ ہر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے، اسی وجہ سے لوگ اسرائیل سے بھی نفرت کرتے ہیں۔
دوسری جانب لبنان پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں جہاں جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں سے ایک نباطیہ پر شدید بم باری کی گئی ہے۔