امریکی ایف 35 پروگرام سے کبھی دستبردار نہیں ہوئے: ترک صدر
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ترکی نے جدید ترین امریکی ایف-35 اسٹیلتھ لڑاکا طیارے حاصل کرنے اور اس پروگرام میں دوبارہ شمولیت کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق نیٹو سربراہی اجلاس سے واپسی پر طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایردوان نے کہا کہ انہیں اس معاملے پر ٹرمپ سے بات چیت کے بعد پیشرفت کی امید ہے۔
ترک صدارتی دفتر کے مطابق ایردوان نے کہا کہ ’ہم نے ایف-35 پروگرام سے کبھی دستبرداری اختیار نہیں کی۔ ہم اپنے امریکی ہم منصبوں کے ساتھ دوبارہ اس پروگرام میں شامل ہونے پر بات چیت کر رہے ہیں‘۔
یاد رہے کہ امریکا نے 2020 میں ترکی پر اس وقت پابندیاں عائد کر دی تھیں جب اس نے روس سے ایس 400 فضائی دفاعی نظام خریدا تھا۔ اسی فیصلے کے تحت ترکیے کو ایف-35 پروگرام سے بھی نکال دیا گیا تھا حالانکہ وہ اس پروگرام کا خریدار ہی نہیں بلکہ شراکت دار بھی تھا۔
ترکیے متعدد بار اس فیصلے کو ’ناانصافی‘ قرار دے چکا ہے اور پروگرام میں دوبارہ شراکت یا مالی ازالے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔ ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ایران کے معاملے پر آڑے ہاتھوں لیا۔ سینیٹ میں پیشی کے موقع پر کوری بُکر نے کہا کہ آخر امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے۔؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے کہا کہ ڈیل بھی ایسی جسے خود امریکا ہی پہلے کچرے کے ڈبے میں پھینک چکا تھا۔ ایران نے آبنائے ہرمز بند کی ہوئی ہے۔ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔
ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین کی میٹنگز ایک مہینہ، دو مہینے یا تین مہینوں تک بھی چل سکتی ہے۔ ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم کی تلفی کے حوالے سے مذاکرات کا عہد کرنا ہوگا۔ مارکو روبیو کے مطابق آج ایران اپنے ایٹمی پروگرام کے جن پہلووں پر بات کرنے کو راضی ہوگیا ہے، پہلے ان پر انکاری تھا۔