پاک بھارت جنگ بندی وقتی، یہ محاذ کسی وقت بھی دوبارہ کھل سکتا ہے، خرم دستگیر خان
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
سابق وفاقی وزیر خارجہ و دفاع خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی وقتی ہے، یہ محاذ کسی بھی وقت دوبارہ کھل سکتا ہے۔
’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سب سے پہلے تو ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ہمیں اس لمحے سے نوازا، پاکستان کی بات سنی گئی اور اس کی سفارتی و عسکری ساخت بہتر ہوئی۔
خرم دستگیر نے کہاکہ وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی تاریخ کا سب سے قابل سفارتی مشن بیرون ممالک میں بھیجا جو بہت ہی قابل اور سنجیدہ لوگوں پر مشتمل تھا۔ یہ لوگ دنیا کی تاریخ سے آگاہ تھے۔
’ہمیں ذوالفقار بھٹو، ڈاکٹر عبدالقدیر اور نواز شریف کا شکر گزار ہونا چاہیے‘سابق وزیر خارجہ نے کہاکہ دوسرا ہمیں شکریہ ادا کرنا چاہیے ذوالفقار علی بھٹو شہید، ڈاکٹر عبدالقدیرخان اور میاں نواز شریف کا جن کی وجہ سے 27 سال پہلے پاکستان ایٹمی طاقت بنا اور یہ فیصلہ پاکستان کے فیصلوں میں سے ایک بڑا فیصلہ تھا۔
انہوں نے کہاکہ ہندوستان کی غلطیاں ان کے تکبر کی وجہ سے ہیں، اور ان کے اسی تکبر کی وجہ سے پاکستان کی ایک الگ پہچان بن گئی ہے، کیونکہ ہندوستان اب اقوام متحدہ کی طرف جانے سے مفرور ہے، وہ بین الاقوامی قانون سے باہر نکل گئے ہیں اسی لیے نیویارک جا کر بھی انہوں نے اقوام متحدہ میں قدم نہیں رکھا۔
انہوں نے کہاکہ سفارتی مشن میں میری یہ ذمہ داری تھی کہ جو دفاعی معاملات ہیں ان پر بات کروں، ہندوستان نے جو 10 مئی کو براہموس میزائل کا استعمال کیا جو کہ جوہری صلاحیت کے حامل ہیں یہ ان کا غیر ذمہ دارانہ عمل تھا جس کا جواب ان کے پاس اب تک نہیں اور سندھ طاس معاہدہ کیوں منسوخ کیا، بغیر ثبوت فراہم کیے پاکستان پر حملہ کیوں کیا؟ ان تمام سوالوں کے جوابات ان کے پاس نہیں ہیں، جس کی وجہ سے اقوام متحدہ نے گرم جوشی سے ہمارا استقبال کیا۔
خرم دستگیر خان نے مزید کہاکہ دنیا میں درجنوں پانی کے معاہدے ہیں، سندھ طاس معاہدہ 65 سال سے قائم ہے اگر وہ ٹوٹ جاتا ہے تو پوری دنیا میں ایک غلط تاثر جائے گا اور تمام ممالک یہی چاہتے تھے کہ پانی کا معاہدہ قائم رہے۔
’بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی تو جنگ ہوگی‘’اگر دنیا بھارت کو سندھ طاس معاہدے میں واپس نہیں لاتی تو نیشنل سیکیورٹی کمیٹی پاکستان نے یہ کہا ہے کہ اگر ہندوستان نے ہمارا پانی روکا تو ہم جنگ کریں گے۔ میں نے یہ بات اقوام متحدہ میں بڑی صراحت سے کہی کہ اگر ہندوستان کو آبی جارحیت سے روکا نہ گیا تو پھر جنگ یقینی ہے، خواہ وہ 6 مہینے بعد ہو یا 6 سال بعد، اور خدانخواستہ اس بار اگر جنگ ہوئی جو کہ ہندوستان کی غیر ذمہ داری کا حصہ ہے تو اس جنگ میں پہلی بار میں ہی میزائل چلیں گے۔ اب ہم نے ایران اسرئیل جنگ میں بھی یہ دیکھ لیا ہے اور میرے مطابق اس بات کو دنیا میں باور کرانا ضروری تھا۔‘
سابق وزیر خارجہ نے مزید بات کرتے ہوئے کہاکہ ہم اپنے دورے میں سب سے پہلے نیویارک گئے اور وہاں سیکیورٹی کونسل کی سربراہ سے ملے، جنرل اسمبلی کے سربراہ ہیں ان سے ملے، اس کے علاوہ تمام اسلامی ممالک کے سفرا سے ملے جس میں پاکستان کی یکجہتی کے علاوہ فلسطین کے حالات پر بھی طویل گفتگو ہوئی۔ اس کے علاوہ واشنگٹن، لندن، برسلز اور فرانس میں بھی ہماری اہم شخصیات سے ملاقاتیں ہوئیں۔
’میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ بڑے عرصے کے بعد پاکستان کو اللہ نے واضح سفارتی برتری دی ہے، جس کی 2 وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ جب ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کیا تو پاکستان نے اس کو بڑھاوا نہیں دیا، اس کا جو متناسب جواب دیا جس کو پوری دنیا نے سراہا اور دوسری یہ کہ پاکستان نے میڈیا میں آکر جوبار بار بریفنگ دی تو جو پاکستان کی طرف سے میڈیا کے ذریعے حالات و احوال بتائے گئے اس کو بھی سب نے سراہا۔‘
’ایک سیاسی جماعت کا سوشل میڈیا منفی مہم چلا رہا ہے‘خرم دستگیر خان نے بات کرتے ہوئے کہاکہ کم از کم 3 سال سے پاکستان کی ایک سیاسی جماعت اور اس کا سوشل میڈیا مستقل مایوسی اور منفیت پھیلا رہا ہے جس کی وجہ سے بہت سے لوگ ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ امریکا پر انحصار ختم ہوا، پاکستان میں خود مختاری آئی، اور اس تمام عمل میں چین نے ہماری بے حد مدد کی اور آج بھی کررہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ جب یہ معرکہ حق ہوا اس نے معاملات کو عوام اور پوری دنیا کے سامنے کھولا، اور سیاسی بنیاد پر ایک تباہ کن منفیت پاکستان کی افواج کے بارے میں پھیلائی گئی لیکن جب انہوں نے اپنا کام کرکے دکھایا تو پوری دنیا کو ماننا پڑا اور یہ پاکستان کے لیے ایک خود اعتمادی ہے۔
’ہم نے امریکا کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کی مذمت کی‘ایران اسرائیل مسئلے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان نے تین رخی شطرنج کھیلی ہے اور یہ واضح تھا کہ ہم امریکا کے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کی مذمت کرتے ہیں، جہاں اصول کی بات تھی ایک اصولی مؤقف لیا، ہم اصولوں کے ساتھ کھڑے ہیں نا کہ امریکا کے ساتھ، ایران کی خود مختاری کا دفاع ہماری خود مختاری کا دفاع ہے اور یہ جو ریڈ لائن امریکا نے کراس کی ہے جوہری تنصیبات پر حملہ کرکے یہ بہت ہی سنجیدہ معاملہ ہے۔
خرم دستگیر نے کہاکہ اس سے پہلے سنہ 1981 میں اسرائیل نے عراق کا ایک ریکٹر تباہ کیا تھا، ایک غیر تحریری اصول ہے کہ جب بھی جنگ ہوگی تو جوہری تنصیبات پر حملہ نہیں کیا جائے گا کیونکہ اس کے نتائج بہت بھیانک ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلاول بھٹو بھارت کو شکست پاکستان ایٹمی طاقت پاکستان بھارت جنگ بندی ذوالفقار بھٹو رہنما مسلم لیگ ن سابق وزیر خارجہ سفارتی ٹیم سفارتی وفد سیز فائر شہباز شریف نواز شریف وزیراعظم پاکستان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو بھارت کو شکست پاکستان ایٹمی طاقت پاکستان بھارت جنگ بندی ذوالفقار بھٹو رہنما مسلم لیگ ن سفارتی ٹیم سفارتی وفد سیز فائر شہباز شریف نواز شریف وزیراعظم پاکستان وی نیوز جوہری تنصیبات پر خرم دستگیر خان انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ پاکستان نے پاکستان کی پوری دنیا کرتے ہوئے کی وجہ سے پر حملہ اور یہ
پڑھیں:
جنگ امن اور معیشت کی کہانی
پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔
دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔
علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔
کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔
بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔
کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔
لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔
اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔