Jasarat News:
2026-07-24@02:19:10 GMT

اسرائیلی میڈیا کا  دو ہفتوں میں غزہ جنگ بندی کا دعویٰ

اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

تل ابیب:اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے درمیان غزہ جنگ کے حوالے سے اہم رابطہ ہوا ہے، جس میں دونوں رہنماؤں نے جنگ بندی پر اتفاق کرلیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق آئندہ دو ہفتوں کے اندر اندر غزہ کی جنگ کے خاتمے کا امکان ہے، اور اس حوالے سے سفارتی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے اعلیٰ حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی گفتگو میں غزہ میں جاری شدید عسکری کارروائی کو ختم کرنے، انسانی بحران کو کم کرنے اور خطے میں کشیدگی کو نیچے لانے پر سنجیدہ اتفاق رائے ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق امریکی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم پر زور دیا ہے کہ غزہ میں کارروائیوں کو محدود کرتے ہوئے جنگ بندی کی طرف بڑھا جائے تاکہ عالمی برادری اور خطے میں امریکا کے مفادات کو نقصان نہ پہنچے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے موجودہ جنگ کو فوری طور پر روکنا ضروری ہے کیونکہ یہ جنگ نہ صرف فلسطینی عوام بلکہ اسرائیل اور عالمی معیشت کے لیے بھی مہلک ثابت ہو رہی ہے، طویل جنگ کے باعث امریکا اور دیگر اتحادیوں پر عالمی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

اسرائیلی میڈیا نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ نیتن یاہو نے ابتدائی طور پر کچھ تحفظات کے باوجود امریکا کے مطالبے کو سنا اور اس پر رضامندی ظاہر کی ہے کہ دو ہفتوں کے اندر اندر جنگ بندی کی راہ ہموار کی جائے گی، اس سلسلے میں اسرائیلی سیکیورٹی ادارے اور وزارت خارجہ کو امریکی تجاویز پر عملدرآمد کے لیے حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کے ساتھ اختلافات کے باوجود اسرائیل کو امریکا کا قریبی ترین اتحادی قرار دیا تھا، انہوں نے غزہ جنگ کے جاری رہنے پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی قیادت کو خبردار بھی کیا تھا کہ جنگ بندی کے بغیر عالمی برادری کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب فلسطینی تنظیموں کی طرف سے اس دعوے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے البتہ حماس کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر جنگ بندی کا کوئی قابل عمل اور پائیدار معاہدہ سامنے آیا تو اس پر غور کیا جا سکتا ہے، اس کے لیے اسرائیل کو اپنی تمام فوجی کارروائیاں بند کرنی ہوں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ نیتن یاہو کے لیے جنگ کے

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی

ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔

پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔

پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔

مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔

خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم