data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لندن(اسپورٹس ڈیسک ) بھارت کے سابق کھلاڑی روی شاستری نے متنازع آئی سی سی ریونیو شیئرنگ ماڈل کے پیچھے اپنا وزن شامل کیا ہے جو اس کھیل کے سب سے امیر بورڈ بی سی سی آئی کی حمایت کرتا ہے۔وزڈن کرکٹ ویکلی پوڈ کاسٹ پر بات کرتے ہوئے بھارت کے سابق ہیڈ کوچ اور موجودہ براڈکاسٹر روی شاستری نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ریونیو پاٹ سے ہندوستان کی خاطر خواہ کٹوتی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ “میں بھارت کے لیے اور زیادہ چاہوں گا کیونکہ زیادہ تر رقم، جو پیدا ہوتی ہے بھارت سے آتی ہے۔اس لیے یہ صرف مناسب ہے کہ وہ اپنا حصہ بڑھوائیں، یہ آپ کو معلوم ہے کہ یہ معیشت کی گیم ہے۔ بھارت فی الحال2024-27سائیکل سے آئی سی سی کی متوقع 600 ملین ڈالرز آمدنی کا تقریبا 38.

5% حصہ لے رہا ہے جو اب تک کسی بھی مکمل ممبر کا سب سے بڑا حصہ ہے۔ بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا کے ‘بگ تھری’ کو مجموعی طور پر 48.2 فیصد حصہ ملتا ہے اور بقیہ نو ٹیسٹ ممالک کے لیے کافی کم کٹ جاتا ہے۔روی شاستری نے مزید کہا کہ “کل ایک اور معیشت ہو سکتی ہے جو مضبوط ہو۔ پیسہ وہاں سے بھی آسکتا ہے جیسا کہ اس نے ستر، اسی کی دہائی میں کیا تھا اور پیسے کا حصہ کہیں اور چلا گیا، تو میرے خیال میں یہ صرف منصفانہ ہے اور یہ صرف آمدنی میں ظاہر ہوتا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: روی شاستری

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ