اسلام ٹائمز: آپ نے اپنے کالم میں کہا کہ ایران کو اس جنگ میں شکست ہوگئی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ نوشتہ دیوار بھی پڑھنے سے عاجز ہیں۔ ایسے میں جب ساری دنیا جانتی ہے کہ اسرائیل پر شکست کا سوگ طاری ہے اور ایران کے عوام اپنی رہبری اور فوج کی فتح کا جشن منا رہے ہیں۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی شکست کا اعلان خود ان کے ملکوں کا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کر رہا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ جو اہداف لے کر ایران پر حملہ آور ہوئے تھے وہ تین تھے۔ پہلا: ایران کو جوہری پروگرام کو بند کروانا۔ کیا ایسا ہوا؟۔ جواب نہیں۔ دوسرا: ایران میں رجیم کو تبدیل کرنا۔ کیا ایسا ہوا؟۔ جواب نہیں۔ تیسرا: ایران کی سپریم قیادت کا خاتمہ۔ کیا ایسا ہوا؟۔ جواب نہیں۔ اب جناب کالم نویس خود غور فرمائیں کہ آپ کا کالم پیشوائیت کے حوالے سے لاعلمی پر مبنی تھا یا کوئی دانستہ کاوش؟ تحریر: علامہ سید حسن ظفر نقوی
لا علمی کہاں تک جا پہنچی ہے اس کا اندازہ مورخہ 25 جون 2025ء کو روزنامہ جنگ کے ادارتی صفحے میں وجاہت مسعود صاحب کے ایران سے متعلق لکھے گئے مضمون سے ہوا۔ موصوف نے خوبصورتی سے تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ ان کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ ایران کی سرزمین پر برطانوی سامراج کیخلاف علم بغاوت بلند کرنیوالے بھی ایک مجتہد آیت اللہ شیرازی تھے جنہوں نے 1888ء میں سامراجی معاہدوں کے خلاف کامیاب تحریک چلائی تھی۔ جو ’’تحریک تحریم تمباکو‘‘ کے نام سے تاریخ میں موجود ہے اور اس وقت بھی ایرانی قوم اپنے علماء کے پیچھے کھڑی تھی پھر دوسری تحریک 1940ء کے عشرے میں آیت اللہ شہید حسن مدرس نے برطانوی پٹھو رضا شاہ پہلوی کے خلاف چلائی تھی اور انہیں قتل کردیا گیا تھا۔ پھر ایک تحریک شمالی ایران یعنی مازندران اور گیلان میں روسی قبضے کے خلاف مرزا کوچک خان جنگلی نے چلائی تھی کیونکہ یہ تحریک جنگلی علاقوں میں تھی لہٰذا اسے نہضت جنگل یعنی تحریک جنگل کا نام دیا گیا۔ یہ بھی ایک عالم دین تھے اور روسیوں نے ان کا سر قلم کر دیا تھا۔ گیلان کے دارالحکومت رشت میں ان کا مزار اور گھر دونوں آج بھی روحانی طاقت کا مظہر ہیں۔
جناب، ڈاکٹر مصدق کی تحریک پوری پڑھیں تو آپ کو علم ہوگا کہ وہ کبھی شاہ کیخلاف کامیابی، چاہے وقتی ہی سہی، حاصل نہیں کرسکتا تھا اگر آیت اللہ کاشانی اس کیساتھ نہ ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ اس انقلاب کی ناکامی کے بعد مصدق کو صرف قید ہوئی جبکہ نواب مجتبٰی صفوی سمیت درجنوں علماء کو فائرنگ اسکواڈ کے حوالے کیا گیا۔ 1963ء ءمیں جب شاہ ایران نے امریکہ اور اسرائیل سے ذلت آمیز معاہدے کئے تو امام خمینیؒ کی تحریک وجود میں آئی اور سب سے پہلے قربانی دینے والا طبقہ علماء کا تھا۔ اس تحریک کے آغاز میں ہی سینکڑوں علماء اور دینی طلبا کا قتل عام کیا گیا، پھر ساری ایرانی قوم اپنے علماء کے پیچھے ہر شہر میں نکل آئی۔ تاہم شاہ کی افواج نے درندگی کے ساتھ چالیس سے پچاس ہزار لوگوں کا قتل عام کیا اور 1964ء کے اس قتل عام کے بعد امام خمینی کو ملک بدر کردیا گیا۔ امام خمینی ترکی سے ہوتے نجف پہنچے وہاں سے انکی تقاریر اور پیغامات ایران پہنچتے رہے اور یہ تحریک جڑیں پکڑتی رہی، اس دوران ساواکیوں (ساواک، شاہ کی خفیہ ایجنسی) نے نجف میں امام خمینی کے بڑے بیٹے آیت اللہ مصطفیٰ خمینی کو قتل کروا دیا۔ اسی دوران ڈاکٹر شریعتی کو لندن میں قتل کر دیا جاتا ہے۔
ادھر ایران میں کیونکہ بائیں بازو کی جڑیں عوام میں نہیں تھیں اس لئے تودہ پارٹی سمیت تمام بائیں بازو کے دھڑوں نے اسی امام خمینی کی تحریک کے پردے میں پناہ لی اور تحریک کے دھارے میں شامل ہوگئے، اس امید پر کہ ملاؤں سے تو نظام نہیں چلے گا اور انقلاب کی کامیابی کے بعد انقلاب پر ہمارا قبضہ ہوگا۔ امام خمینی انقلاب سے پہلے ہی بعد کا نظام بھی ترتیب دے چکے تھے اور ہزاروں کی تعداد میں نظام چلانے والوں کا لشکر بنا چکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انقلاب کے بعد بہشتی اور مطہری جیسوں کا قتل بھی انقلاب کو نہ گرا سکا۔ آپ نے ان خیانتکاروں اور غداروں کی موت کا ذکر کیا لیکن آپ یہ بھول گئے کہ انہی غداروں کی وجہ سے اوائل انقلاب ہی میں ایران کا صدر محمد علی رجائی اور وزیراعظم جواد باہنر کو شہید کیا جاتا ہے۔ پارلیمنٹ کے 72 ارکان شہید کئے جاتے ہیں لیکن انقلاب قائم رہتا ہے۔ انہی خیانت کاروں کی وجہ سے ایران پر جنگ مسلط کی جاتی ہے اور صدر بنی صدر اور وزیر خارجہ صادق قطب زادہ جیسے امریکی ایجنٹوں کے سبب آغازِ جنگ میں ایران کو بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے لیکن ان دونوں خیانت کاروں کے فرار اور انجام کے بعد ایران کی جنگ میں کامیابیوں کا آغاز ہوتا ہے۔ آپ نے جن ترقی پسندوں کی موت پر اظہار افسوس کیا ہے وہ ترقی پسند نہیں بلکہ امریکہ اور اسرائیل کے ایجنٹ تھے۔
تودہ کے پارٹی سربراہ نورالدین کیانوری سمیت کسی بھی ایسے شخص کو پھانسی نہیں دی گئی جو نظام کا مخالف ضرور تھا لیکن کسی بیرونی طاقت کا ایجنٹ نہیں تھا، ان میں سے اکثر صرف نظر بند کئے گئے اور اکثریت آزاد رہی۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ ایران اسرائیل جنگ میں تودہ پارٹی کے بچے کچھے افراد نے اپنی حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان کیا اور آخر میں آپ نے اپنے کالم میں کہا کہ ایران کو اس جنگ میں شکست ہوگئی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ نوشتہ دیوار بھی پڑھنے سے عاجز ہیں۔ ایسے میں جب ساری دنیا جانتی ہے کہ اسرائیل پر شکست کا سوگ طاری ہے اور ایران کے عوام اپنی رہبری اور فوج کی فتح کا جشن منا رہے ہیں۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی شکست کا اعلان خود ان کے ملکوں کا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کر رہا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ جو اہداف لے کر ایران پر حملہ آور ہوئے تھے وہ تین تھے۔ پہلا: ایران کو جوہری پروگرام کو بند کروانا۔ کیا ایسا ہوا؟۔ جواب نہیں۔ دوسرا: ایران میں رجیم کو تبدیل کرنا۔ کیا ایسا ہوا؟۔ جواب نہیں۔ تیسرا: ایران کی سپریم قیادت کا خاتمہ۔ کیا ایسا ہوا؟۔ جواب نہیں۔ اب جناب کالم نویس خود غور فرمائیں کہ آپ کا کالم پیشوائیت کے حوالے سے لاعلمی پر مبنی تھا یا کوئی دانستہ کاوش؟
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کیا ایسا ہوا جواب نہیں ا یت اللہ ایران کو ایران کی شکست کا ہے کہ ا ہے اور کے بعد
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔