ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کو مارنا چاہتے تھے لیکن موقع نہیں مل سکا: اسرائیلی وزیر دفاع
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کا ارادہ تھا، لیکن مناسب آپریشنل موقع میسر نہیں آیا۔
اسرائیلی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں اسرائیل کاٹز نے بتایا کہ خامنہ ای کو حملے کا خدشہ تھا، اسی لیے وہ منظر عام سے غائب ہو گئے اور پاسدارانِ انقلاب کے نئے کمانڈرز سے بھی رابطے منقطع کر دیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران نے دوبارہ اپنا جوہری پروگرام بحال کرنے کی کوشش کی تو اسرائیل دوبارہ حملہ کر سکتا ہے، اور اس سلسلے میں امریکا کی حمایت بھی حاصل ہے، تاہم فی الحال ایسے آثار نظر نہیں آتے کہ ایران فوری طور پر جوہری تنصیبات کو بحال کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔