نیویارک سٹی کے موجودہ میئر ایرک ایڈمز نے جمعرات کے روز اپنی ری الیکشن مہم کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔

انہوں نے نیویارک سٹی ہال کی سیڑھیوں پر اپنے تقریباً 100 حامیوں کے ہمراہ خطاب کیا اور ایک بار پھر 4 سال کے لیے میئر بننے کی خواہش کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں:نیویارک میئر کے لیے امیدوار ظہران ممدانی اور امریکی صدر ٹرمپ آمنے سامنے

ایڈمز جو 2021 میں ڈیموکریٹک پارٹی کے پلیٹ فارم سے منتخب ہوئے تھے، اب آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ یہ انتخاب نیلے کالر (محنت کش) اور چاندی کے چمچ (امیر طبقے) میں سے ایک کو منتخب کرنے کا ہے۔

یہ بات انہوں نے اپنے پس منظر اور ڈیموکریٹک امیدوار زوہران ممدانی کے درمیان فرق واضح کرنے کے لیے کہی، جنہوں نے حالیہ ابتدائی مرحلے میں سابق گورنر ۔اینڈریو کومو۔ کو شکست دے کر سب کو حیران کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ نے نیو یارک کے امیدوار برائے میئرشپ ظہران ممدانی کو ’کمیونسٹ پاگل‘ قرار دیدیا

ایڈمز نے کہا کہ نیویارک ایک ایسا شہر ہے جہاں لوگوں کو مفت چیزیں نہیں بلکہ روزگار اور عزت دی جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا یہ شہر سوشلسٹ نہیں ہے۔ لوگوں کو سب کچھ مفت دینا عزت کی بات نہیں، اصل عزت اس میں ہے کہ انسان کو نوکری دی جائے تاکہ وہ اپنی فیملی کا خیال رکھ سکے۔

زہران ممدانی

ایڈمز نے امریکا میں امیگریشن پالیسیز پر بھی بات کی اور بائیڈن حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی امیگریشن پالیسیوں کی وجہ سے نیویارک کے پناہ گزین مراکز پر بہت دباؤ پڑا۔

یہ بھی پڑھیں:نیویارک میئر کے لیے نامزد امیدوار ظہران ممدانی نے ’روٹی، کپڑا اور مکان‘ کا نعرہ لگادیا

انہوں نے کہا کہ میں نے پارٹی اور سیاست سے بالاتر ہو کر نیویارک کے لوگوں کو ترجیح دی، اسی لیے مجھ پر سیاسی الزامات لگائے گئے۔

یاد رہے کہ ایڈمز پر بائیڈن حکومت کی جانب سے رشوت، وائر فراڈ اور سازش کے الزامات لگائے گئے تھے، جو بعد میں ٹرمپ حکومت نے ختم کر دیے۔

دوسری طرف زوہران ممدانی ایک نوجوان سیاستدان ہیں، جو یوگنڈا میں پیدا ہوئے اور 2018 میں امریکی شہری بنے۔ وہ سوشلسٹ نظریات رکھتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ ’نیویارک کو ایسا شہر بنانا چاہیے جو ٹرمپ جیسے فاشزم کا مقابلہ کرے، اور غیر قانونی امیگرنٹس کو ڈیپورٹ نہ کیا جائے‘۔

یہ بھی پڑھیں:نیویارک میئر کے لیے پہلے مسلمان امیدوار ظہران ممدانی کون ہیں؟

ممدانی نے عوامی سہولیات جیسے مفت ٹرانسپورٹ، بچوں کی دیکھ بھال، اور تعلیمی اداروں کی فیس معافی، کی حمایت کی ہے۔

وہ مشہور فلم ساز میرا نائر کے بیٹے ہیں، جنہوں نے فلم ’ Mississippi Masala ‘ بنائی تھی۔ ان کے والد محمود ممدانی یوگنڈا میں ایک مشہور ماہرِ تاریخ اور استاد ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

Mississippi Masala زوہران ممدانی فلم ساز میرا نائر میئر ایرک ایڈمز نیویارک میئر یوگنڈا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: زوہران ممدانی فلم ساز میرا نائر میئر ایرک ایڈمز نیویارک میئر یوگنڈا نیویارک میئر یہ بھی پڑھیں انہوں نے کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا

ارب پتی ٹیکنالوجی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ ان کا مصنوعی ذہانت پر مبنی پلیٹ فارم گروک امیجن (Grok Imagine) رواں سال کے اختتام سے پہلے قدیم یونانی رزمیہ شاہکار اوڈیسی پر مبنی ایک مکمل فلم تیار کرے گا۔ مسک کا کہنا ہے کہ یہ فلم شاعر ہومر کی اصل تخلیق کے مطابق ہوگی اور تاریخی اعتبار سے بھی زیادہ درست انداز میں پیش کی جائے گی۔

ایلون مسک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ اے آئی کے ذریعے بنائی جانے والی یہ فلم ہومر کے اصل فن اور کہانی کی حقیقی روح کی عکاسی کرے گی۔ انہوں نے اس اعلان کے ساتھ تقریباً تین منٹ طویل ایک اے آئی ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں اوڈیسیئس اور کلیپسو کے درمیان ایک منظر دکھایا گیا ہے۔

Before this year ends, Grok Imagine will make a full-length movie of The Odyssey that is historically accurate and true to the art of Homer https://t.co/bVHzUmY9WN

— Elon Musk (@elonmusk) July 22, 2026

اس سے قبل بھی ایلون مسک نے ایک صارف کی اس تجویز کی حمایت کی تھی کہ ہدایت کار میل گبسن تقریباً 100 ملین ڈالر کی لاگت سے اوڈیسی پر ایسی فلم بنائیں جس میں تاریخی طور پر درست جہاز، ہتھیار، زرہیں، کردار اور ہومر کی اصل نظم کے مکالمے شامل ہوں۔ اس تجویز پر مسک نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا تھا، ’میں تیار ہوں۔‘

دوسری جانب ایلون مسک حالیہ دنوں میں برطانوی نژاد امریکی فلم ساز کرسٹوفر نولن کی فلم اوڈیسی پر بھی سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ نولن نے ایوارڈز حاصل کرنے کی غرض سے اصل داستان میں تبدیلیاں کیں۔ انہوں نے فلم کی کاسٹنگ پر بھی اعتراض اٹھایا، خاص طور پر اداکارہ لوپیٹا نیونگو کو ہیلن آف ٹرائے کے کردار میں لینے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ ایک موقع پر نولن کو ’نسل پرستانہ رویہ رکھنے والا‘ فلم ساز بھی قرار دیا۔

تاہم ایلون مسک کی تنقید کے باوجود کرسٹوفر نولن کی اوڈیسی نے باکس آفس پر شاندار آغاز کیا ہے۔ باکس آفس رپورٹس کے مطابق فلم نے ریلیز کے پہلے ہفتے میں دنیا بھر سے 264.06 ملین ڈالر سے زائد کا بزنس کیا، جس کے بعد اسے رواں برس کی نمایاں کامیاب فلموں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن