مخصوص نشستوں سے متعلق نظر ثانی کیس سننے والا سپریم کورٹ کا بینچ ٹوٹ گیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: مخصوص نشستوں سے متعلق نظر ثانی کیس سننے والا سپریم کورٹ کا بینچ ٹوٹ گیا۔
سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی کیس کی سماعت کا آغاز ہوا تو جسٹس صلاح الدین پنہور نے خود کو کیس کی سماعت سے علیحدہ کرلیا، جس کے بعد بنچ ٹوٹ گیا۔
جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیے کہ عوام کا عدلیہ پر اعتماد برقرار رہنا ضروری ہے اور یہ لازم ہے کہ کسی بھی فریق کو بنچ پر اعتراض نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ وکیل حامد خان نے بنچ میں شامل کچھ ججز پر اعتراض اٹھایا تھا، اور میں بھی اُن ججز میں شامل ہوں، اس لیے ان وجوہات کی بنیاد پر مزید سماعت کا حصہ نہیں بن سکتا، میں اس حوالے سے اپنا مختصر فیصلہ پڑھنا چاہتا ہوں۔
جسٹس صلاح الدین نے وکیل حامد خان سے کہا کہ آپ نے ہمارے بنچ میں شامل ہونے پر اعتراض کیا، اگرچہ ہمارا ذاتی تعلق 2010 سے ہے، لیکن آپ کے دلائل سے میں ذاتی طور پر دکھی ہوا ہوں، تاہم یہ ذاتی معاملہ نہیں بلکہ عدلیہ کا وقار اور عوامی اعتماد کا معاملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ججز پر جانبداری کے الزامات لگائے گئے، جو کہ افسوسناک ہیں، کیونکہ عوام میں ایسا تاثر جانا درست نہیں کہ کوئی جج جانبدار ہے۔
اس موقع پر وکیل حامد خان نے جسٹس صلاح الدین کے فیصلے کا خیر مقدم کیا، جس پر جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ یہ کوئی خیرمقدمی بات نہیں، ہم اسی کیس میں سنی اتحاد کونسل کے دوسرے وکیل کے دلائل سن رہے ہیں۔
جسٹس جمال مندوخیل نے بھی حامد خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام صورتحال آپ کے طرزِ عمل کی وجہ سے پیش آئی، حالانکہ آپ اس کیس میں دلائل دینے کے اہل نہیں تھے، ہم نے محض آپ کا لحاظ کیا۔
عدالت نے بعد ازاں کیس کی سماعت میں 10 منٹ کا وقفہ دے دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جسٹس صلاح الدین کہا کہ
پڑھیں:
بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
اسلام آباد (ًؐنمائندہ خصوصی +نوائے وقت رپورٹ) وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی ہو گیا جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہو سکا، دوسری جانب ذرائع قومی اسمبلی کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی وجہ سامنے آگئی۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے۔ پارلیمانی ذرائع کا بتانا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے۔ بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔ پارلیمانی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی۔وزارت خزانہ میں پیپلز پارٹی اور حکومتی ٹیم کے درمیان اجلاس ختم ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کئے جا سکے۔ پی پی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہو گا۔