Express News:
2026-06-03@03:16:41 GMT

غدار کون، کھیل کیا ہے ؟

اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT

آج کل تحریک انصاف میں عجب ماحول ہے۔ سب ایک دوسرے کو ٹاؤٹ اور غدار کہہ رہے ہیں۔ اس سے پہلے تحریک انصاف کا سوشل میڈیا سیاسی دشمنوں کے خلاف بطور ہتھیار استعمال ہوتا تھا۔ لیکن آج کل تحریک انصاف کی پاکستان کی قیادت خود ہی اس کا شکار نظر آرہی ہے۔ یہ سوشل میڈیا اپنے ہی قائدین کو اسٹبلشمنٹ کا ٹاؤٹ اور کپتان کا غدار قرار دے رہا ہے۔

مجھے نہیں معلوم آپ سوشل میڈیا کتنا دیکھتے ہیں لیکن وزیر اعلیٰ گنڈا پور سمیت تمام کے پی قیادت کی تصاویر لگا کر غدار کے پوسٹر لگائے جا رہے ہیں۔ انھیں کپتان کا غدار کہا جا رہا ہے۔ کے پی حکومت کو اسٹبلشمنٹ کی حکومت قرار دیا جا رہا ہے۔

بانی تحریک انصاف نے دس جون کو ہدایت کی تھی کہ ان سے مشاورت کے بغیر بجٹ پاس نہ کیا جائے۔ انھوں نے واضح ہدایت کی تھی جب تک وہ اجازت نہ دیں بجٹ پیش بھی نہ کیا جائے۔ اس کے بعد اب صورتحال یہ ہے کہ کپتان کی مشاورت کے بغیر بجٹ پیش بھی ہوگیا اور پاس بھی ہوگیا۔ دیکھا جائے تو کپتان کی حکم عدولی ہو گئی ہے۔

کپتان سے غداری ہو گئی ہے۔ کپتان کا سوشل میڈیا چیخ چیخ کر کہہ رہا کہ جب کپتان نے اجازت کے بغیر بجٹ پیش کرنے سے منع کیا تھا تو بجٹ پیش ہی کیوں کیا گیا پھر پاس کیوں کیا گیا۔ اس لیے کپتان کی بہن نے اس بڑے جرم پر کہا ہے کہ کپتان مائنس ہوگیا ہے۔ اسٹبلشمنٹ کا کپتان کو مائنس کرنے کا کھیل کامیاب ہوگیا ہے۔ کپتان کی پارٹی نے اسے خود ہی مائنس کر دیا ہے۔ کسی مخالف کی کیا ضرورت ہے۔

دوسری طرف یہ دلیل ہے کہ اگر بجٹ پاس نہ کیا جاتا تو حکومت ختم ہو جاتی۔ صوبے میں وفاقی حکومت مالیاتی ایمرجنسی لگا دیتی، گورنر راج لگ جاتا، تحریک انصاف کی حکومت ختم ہو جاتی۔ غرض کہ ایسے ڈراؤنے منظر نامے پیش کیے جا رہے ہیں کہ لگ رہا ہے کہ اگر بجٹ پاس نہ ہوتا تو کے پی میں قیامت آجاتی۔ اس لیے تحریک انصاف کی کے پی حکومت کے پاس دو ہی آپشن تھے۔ ایک طرف سیاسی قیامت تھی دوسری طرف کپتان کی حکم عدولی تھی۔ اس لیے انھوں نے سیاسی قیامت سے بچنے کے لیے سب کچھ کیا ہے۔ وہ غدار نہیں ہیں۔ وہ مظلوم ہیں۔

یہ تو حقیقت ہے کہ اگر 30جون تک بجٹ پاس نہ ہوتا تو کے پی کی تحریک انصاف کی حکومت کے مالیاتی اختیارات ختم ہو جاتے۔ حکومت تو قائم رہتی لیکن اس کے پاس ایک روپیہ بھی خرچنے کے اختیارات نہ ہوتے۔ وزیر اعلیٰ کی سرکاری گاڑی میں پٹرول بھی نہیں ہوتا۔ سب کام رک جاتے۔ آخر سب کچھ پیسے سے ہی چلتا ہے۔ ویسے تو آئین میں لکھا ہوا ہے کہ اگر کوئی حکومت بجٹ پاس نہ کروا سکے تو وہ حکومت ختم ہوجاتی ہے۔ لیکن یہ تو وہ صورتحال ہے کہ بجٹ پیش ہو اور ارکان اسمبلی بجٹ کے خلاف ووٹ دے دیں۔ لیکن شائد آئین میں کہیں ایسی کسی صورتحال کا ذکر نہیں کہ اگر کوئی حکومت بجٹ ہی پیش نہ کرے تو کیا ہوگا۔ بجٹ ناکام ہونے کی صورتحال کا لکھا ہوا ہے۔ بجٹ پیش ہی نہ کیا جائے تو کیا ہو گا۔

میں سمجھتا ہوں یہ تو درست ہے کہ حکومت پیسے نہیں خرچ کر سکے گی۔ نظام حکومت مفلوج ہو جائے گا۔ ملازمین کی تنخواہیں بھی نہیں دی جا سکیں گی۔ اسپتالوں میں ادویات بھی نہیں ہونگی۔ لیکن پھر بھی اسمبلی موجود ہوگی۔ وزیر اعلیٰ موجود ہوگا، کابینہ موجود ہوگی، وہ تو موجود رہیں گے۔ ایک آئینی بحران ضرور ہوگا۔ ایک مالی بحران تو ضرور ہوگا، ترقیاتی کام رک جائیں گے۔ کسی کو کوئی ادائیگی نہیں ہو سکے گی۔ لیکن یہ تو کہیں نہیں لکھا کہ حکومت ختم ہو جائے گی۔

بانی تحریک انصاف کا آخری ٹوئٹ یہ ظاہر کر رہا ہے کہ وہ بجٹ پاس ہونے پر خوش نہیں۔ وہ بجٹ میں آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرنے اور ایک سرپلس بجٹ پیش کرنے پر خوش نہیں۔ اس لیے انھوں نے پھر کہا کہ مجھے آکر ملیں۔ ان کے ٹوئٹ میں صاف نظر آرہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ کے پی کے بجٹ میں آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا نہ کیا جائے۔ آئی ایم ایف جانے اور وفاقی حکومت جانے۔ کے پی کا کیا تعلق۔ یقیناً اس طرح وفاقی حکومت کے لیے مسائل پیدا ہونگے۔ بلکہ وفاقی حکومت ہی نہیں پاکستان کے لیے مسائل پیدا ہونگے۔

آئی ایم ایف کا پروگرام رک سکتا ہے جس سے پاکستان کی معیشت ایک بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔ تحریک انصاف نے پہلے بھی پاکستان کے آئی ایم ایف کے پروگرام کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے۔

آپ کو یاد ہوگا کہ شوکت ترین اور تحریک انصاف کے پنجاب اور کے پی کے وزرا خزانہ کی آڈیو لیک ہوئی تھی جس میں شوکت ترین انھیں آئی ایم ایف کا پروگرام خراب کرنے کا کہہ رہے تھے۔ اسی آڈیو کال میں پنجاب کے تحریک انصاف کے وزیر خزانہ محسن لغاری نے کہا کہ اس سے پاکستان کو تو نقصان نہیں ہوگا۔ تو شوکت ترین نے جواب دیا کہ آپ پاکستان کو نہیں خان کو دیکھیں۔ آج بھی وہی پروگرام لگتا ہے کہ کپتان جیل میں بیٹھ کر یہ سوچ رہا ہے کہ اگر اس کی حکومت آئی ایم ایف کی ڈیل خراب کر دے تو یہ اسٹبلشمنٹ اور حکومت اس کے پاؤں میں گر جائے گی۔ سب اس سے بات کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

دوسری طرف کے پی حکومت یہ سوچ رہی ہے کہ یہ ایک خطرناک کھیل ہے ۔ اس وقت اسٹبلشمنٹ بہت مضبوط ہے۔ تحریک انصاف کا آخری ٹرمپ کارڈ بھی ناکام ہوگیا ہوا ہے۔ لوگ احتجاج کے لیے باہر نہیں آرہے۔ تحریکیں ناکام ہو گئی ہیں۔

اسلام آباد پر چڑھائی ممکن نہیں۔ عدلیہ سے ریلیف مل نہیں رہا۔ ایک سہارا ہے کے پی کی حکومت ساری تحریک انصاف کے پی کی حکومت پر زندہ ہے۔ اس کی بھی قربانی ہوگئی تو سیاسی طورپر زندہ رہنا مشکل ہوجائے گا۔ سب مارے جائیں گے۔ دوسری طرف کپتان سوچ رہا ہے کہ میں تو جیل میں ہوں ۔ مجھے اس حکومت کا کیا فائدہ ہے۔ یہ حکومت مجھے کوئی ریلیف نہیں دلا سکی۔ مجھے رہا نہیں کروا سکی۔ اسلام آباد پر چڑھائی نہیں کر سکی۔ ایک مالیاتی حملہ کر کے دیکھتے ہیں شائد داؤ لگ جائے۔

تحریک انصاف کی پولیٹیکل کمیٹی نے تحریک انصاف کی کے پی حکومت کو بجٹ پاس کرنے کی اجازت دی۔ لیکن سوال تو یہ ہے کہ کیا پولیٹیکل کمیٹی کپتان کے حکم کو بدل سکتی ہے، اتنی با اختیار تو نہیں، اسے تو روزانہ کے معاملات دیکھنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس کی اتنی اوقات کہ کپتان کی ہدایات کے بر عکس کوئی فیصلہ کر دے۔ اس لیے اسے بھی غداروں کی لسٹ میں شامل کر لیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ گنڈا پور کا موقف ہے کہ انھیں اور ان کی ٹیم کو ملنے کی اجازت ہی نہیں مل رہی۔ وہ کیسے ملیں۔ لیکن حیرانگی کی بات ہے کہ گنڈاپور کو ملنے کی اجازت نہیں ملی۔ لیکن بیرسٹر سیف کی ملاقات ہوگئی۔ اب کیا ہوگا۔ کھیل دلچسپ ہے۔

کیا کپتان گنڈاپور کو مستعفی ہونے کا کہے گا۔ ابھی تک نہیں کہا۔ کیا کپتان خود ہی اپنی کے پی حکومت ختم کر دے گا۔ شائد کپتان بحران پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اس میں حکومت چلی جائے تو شہید ہو جائے۔ اسے خود ختم کرنا تو خود کشی ہوگی۔ وہ حکومت کی شہادت چاہتا ہے۔ اس لیے کھیل جاری ہے۔ دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: تحریک انصاف کی حکومت ختم ہو ا ئی ایم ایف وفاقی حکومت نہ کیا جائے کے پی حکومت سوشل میڈیا بجٹ پاس نہ وزیر اعلی رہا ہے کہ ہے کہ اگر کی حکومت کہ کپتان کپتان کی نہیں ہو بجٹ پیش اس لیے بھی نہ ہیں کہ گیا ہے کیا ہو کے لیے

پڑھیں:

5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا

پانچ جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔

بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے منگل کی رات مذاکرات ہوئے مگر پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔

ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اورحکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔

پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ 

حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالف ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان