کورنگی(نیوزڈیسک)کراچی کے علاقے کورنگی میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے متعدد کارکنان کو حراست میں لیا اور پھر تھوڑی دیر کے بعد رہا کردیا۔

پاکستان تحریک انصاف کراچی کی ترجمان نے اپنے جاری میں بیان میں الزام عائد کیا یے کہ پولیس نے اتوار کو پی ٹی آئی کے تحت کورنگی کنونشن پر دھاوا بول کر کئی مقامی رہنماؤں اور کارکنان کو حراست میں لے لیا۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کراچی ڈسٹرکٹ کورنگی کے پرامن کنونشن پر سندھ حکومت کی بوکھلاہٹ عیاں ہوگئی، پولیس نے بلاجواز چھاپے مار کر یوسی چیئرمین سعد اچکزئی، صدر کورنگی ملک نعمان، ولید ہاشمی اور متعدد دیگر کارکنان کو حراست میں لے لیا۔

پی ٹی آئی کراچی کے صدر راجہ اظہر نے کہا کہ یہ جمہوریت نہیں بلکہ سول ڈکٹیٹرشپ کا دور ہے، مگر سندھ حکومت نے فسطائیت کی تمام حدیں پار کر دی ہیں، جمہوریت کا دعویٰ کرنے والے حکمران دراصل عوامی طاقت سے خوفزدہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک ڈسٹرکٹ کے کنونشن سے اتنا خوف یہ ان کی ناکامی کا کھلا ثبوت ہے، ان مظالم کے خلاف پی ٹی آئی کراچی بھر میں شدید احتجاج کرے گی۔

ایس ایچ او زمان ٹاون نے نفیس الرحمن نے پی ٹی آئی کے کسی کارکن یا عہدیدار کو ہولیس نے حراست میں نہیں لیا ہے۔ پی ٹی آئی کراچی کی ترجمان نے تصدیق کی کہ پولیس نے حراست میں لیے گئے کارکنان کو رہا کردیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے

سکھر:

سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔

مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔

دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔

سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔

سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔

صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔

سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔

انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔

سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار