کراچی ، پی ٹی آئی کنونشن ناکام، پولیس نے درجنوں کارکن گرفتار کرلئے
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
کورنگی(نیوزڈیسک)کراچی کے علاقے کورنگی میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے متعدد کارکنان کو حراست میں لیا اور پھر تھوڑی دیر کے بعد رہا کردیا۔
پاکستان تحریک انصاف کراچی کی ترجمان نے اپنے جاری میں بیان میں الزام عائد کیا یے کہ پولیس نے اتوار کو پی ٹی آئی کے تحت کورنگی کنونشن پر دھاوا بول کر کئی مقامی رہنماؤں اور کارکنان کو حراست میں لے لیا۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کراچی ڈسٹرکٹ کورنگی کے پرامن کنونشن پر سندھ حکومت کی بوکھلاہٹ عیاں ہوگئی، پولیس نے بلاجواز چھاپے مار کر یوسی چیئرمین سعد اچکزئی، صدر کورنگی ملک نعمان، ولید ہاشمی اور متعدد دیگر کارکنان کو حراست میں لے لیا۔
پی ٹی آئی کراچی کے صدر راجہ اظہر نے کہا کہ یہ جمہوریت نہیں بلکہ سول ڈکٹیٹرشپ کا دور ہے، مگر سندھ حکومت نے فسطائیت کی تمام حدیں پار کر دی ہیں، جمہوریت کا دعویٰ کرنے والے حکمران دراصل عوامی طاقت سے خوفزدہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک ڈسٹرکٹ کے کنونشن سے اتنا خوف یہ ان کی ناکامی کا کھلا ثبوت ہے، ان مظالم کے خلاف پی ٹی آئی کراچی بھر میں شدید احتجاج کرے گی۔
ایس ایچ او زمان ٹاون نے نفیس الرحمن نے پی ٹی آئی کے کسی کارکن یا عہدیدار کو ہولیس نے حراست میں نہیں لیا ہے۔ پی ٹی آئی کراچی کی ترجمان نے تصدیق کی کہ پولیس نے حراست میں لیے گئے کارکنان کو رہا کردیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔