WE News:
2026-06-03@00:13:17 GMT

برطانیہ میں ویپ کا استعمال سگریٹ نوشی سے بڑھ گیا

اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT

برطانیہ میں ویپ کا استعمال سگریٹ نوشی سے بڑھ گیا

برطانیہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ویپ یا ای سگریٹ استعمال کرنے والے بالغ افراد کی تعداد سگریٹ نوشوں سے بڑھ گئی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی خواتین میں سگریٹ نوشی کا رجحان کیوں اور کیسے بڑھنے لگا؟

برطانوی محکمہ برائے شماریات کے مطابق سروے میں 16 سال سے زائد عمر کے 54 لاکھ افراد ویپ کا روزانہ یا کبھی کبھار استعمال کرتے ہیں جبکہ 49 لاکھ افراد اب بھی سگریٹ پیتے ہیں۔

اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 25 سے 49 سال کی عمر کے افراد میں ویپ کا روزانہ استعمال سب سے زیادہ ہے جبکہ خواتین میں اس رجحان میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

پچھلے ایک عشرے میں سگریٹ نوشی کی مقبولیت میں مسلسل کمی آئی ہے کیونکہ تمباکو کے مضر اثرات نے لاکھوں افراد کو عادت ترک کرنے پر مجبور کیا۔ دوسری جانب ویپنگ کا رجحان خاص طور پر نوجوانوں میں تیزی سے بڑھا ہے۔

برطانوی نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق ویپنگ سے سگریٹ کے مقابلے میں صحت کو بہت کم نقصان ہوتا ہے کیونکہ سگریٹ جلنے سے ہزاروں زہریلے کیمیکل پیدا ہوتے ہیں جو کینسر سمیت کئی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔

مزید پڑھیے: ’تھوڑی دیر کی شیشہ نوشی 100 سے زیادہ سگریٹ پینے کے برابر‘، رپورٹ میں انکشاف

تاہم ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ مکمل طور پر محفوظ نہیں لہٰذا بچوں اور غیر سگریٹ نوشوں کو ویپ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

عوامی صحت کے لیے اچھی خبر، مگر خطرات باقی

چیریٹی تنظیم ایکشن آن اسموکنگ اینڈ ہیلتھ (اے ایس ایچ) نے سگریٹ نوشی میں کمی کو عوامی صحت کے لیے خوش آئند پیشرفت قرار دیا تاہم خبردار بھی کیا کہ اب بھی لاکھوں افراد سگریٹ کے ایسے چکر میں پھنسے ہیں جو بالآخر ان کی جان لے سکتا ہے۔

تنظیم کے مطابق برطانیہ میں سالانہ 70 ہزار اموات سگریٹ نوشی کے باعث ہوتی ہیں جو کہ قابل تدارک اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

قانونی اصلاحات اور نئی پابندیاں

او این ایس سروے کے مطابق اب برطانیہ میں 10 فیصد بالغ افراد ویپ استعمال کرتے ہیں جو 9.

1 فیصد سگریٹ نوشوں سے کچھ زیادہ ہے۔

سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ 74.2 فیصد افراد نے سنہ 2024 تک سگریٹ نوشی ترک کر دی جو سنہ 2023 کے 70.3 فیصد سے زیادہ ہے۔

حکومت نے حالیہ برسوں میں تمباکو نوشی کے خلاف متعدد اقدامات کیے ہیں جن میں سنہ 2007 میں بند جگہوں پر سگریٹ نوشی پر پابندی، سنہ 2015 میں گاڑیوں میں بچوں کے سامنے سگریٹ نوشی پر پابندی اور سال 2017 میں سادہ پیکنگ کا قانون شامل ہے۔

اب ’ٹوبیکو اینڈ ویپس بل‘ کے تحت یہ تجویز دی گئی ہے کہ سنہ 2009 کے بعد پیدا ہونے والا کوئی بھی شخص برطانیہ میں تمباکو خریدنے کا اہل نہیں ہوگا۔

نوجوانوں کو محفوظ رکھنے کے لیے سخت اقدامات

حکومت نے ویپنگ مصنوعات کی پیکنگ اور دکانوں میں نمائش سے متعلق قوانین مزید سخت کرنے کا عندیہ دیا ہے تاکہ بچوں کو ان کی طرف راغب ہونے سے روکا جا سکے۔

مزید پڑھیں: کیا پاکستان میں ویپنگ، ای سگریٹ پر پابندی لگنے والی ہے؟

جون سے برطانیہ میں سنگل یوز یا ڈسپوزیبل ویپ کی فروخت پر بھی پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ماحولیاتی نقصان میں کمی اور نوجوانوں میں ویپنگ کے بڑھتے رجحان کو روکنا ہے۔

برطانوی وزارت صحت کے ترجمان کے مطابق ٹوبیکو اینڈ ویپس بل کے تحت حکومت کو نِکوٹین کی طاقت، ذائقوں اور پیکنگ سے متعلق نئے ضوابط متعارف کرانے کا اختیار حاصل ہوگا تاکہ نوجوانوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔

تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق برطانیہ میں 6.7 فیصد بالغ افراد روزانہ ویپ استعمال کرتے ہیں جبکہ 3.3 فیصد کبھی کبھار۔

اگرچہ مجموعی طور پر ویپنگ میں اضافہ دیکھا گیا ہے مگر 16 سے 24 سال کی عمر کے گروپ میں اس کی شرح 2023 کے 15.8 فیصد سے کم ہوکر 13 فیصد پر آ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: برطانیہ میں ڈسپوزایبل ویپس پر پابندی کیوں عائد کی گئی؟

اے ایس ایچ کی چیف ایگزیکٹو ہیذل چیزمین کے مطابق اگرچہ تمباکو نوشی میں کمی خوش آئند ہے لیکن ہمیں اس بات پر تشویش ہے کہ نوجوان اور غیر سگریٹ نوش طبقے بھی ویپنگ کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ای سگریٹ برطانیہ سگریٹ نوشی ویپ ویپنگ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ای سگریٹ برطانیہ سگریٹ نوشی ویپ ویپنگ برطانیہ میں سگریٹ نوشی پر پابندی کے مطابق میں ویپ ہیں جو کے لیے

پڑھیں:

مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد

مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔

ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔

ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔

واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔

پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں