چینی وزیر خارجہ یورپی یونین کے ہیڈکوارٹرز، جرمنی اور فرانس کا دورہ کریں گے ، وزارت خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
بیجنگ :چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اعلان کیا کہ یورپی یونین کی اعلی نمائندے برائے امور خارجہ و سلامتی پالیسی کاجا کراس، جرمن وزیر خارجہ والڈیوور اور فرانسیسی وزیر خارجہ بارو کی دعوت پر سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کے پولیٹیکل بیورو کے رکن اور وزیر خارجہ وانگ ای 30 جون سے 6 جولائی تک یورپی یونین کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کریں گے اور چین یورپی یونین ہائی لیول اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے 13 ویں دور میں شرکت کریں گے، وزیر خارجہ جرمنی کا دورہ بھی کریں گے اور سفارتکاری اور سلامتی پر چین جرمنی اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے آٹھویں دور میں شریک ہونگے ۔ اسکے علاوہ وانگ ای فرانس کا دورہ کریں گے اور چین – فرانس وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات اور بات چیت کے عمل میں شریک ہونگے۔ وانگ ای چین-فرانس اعلی سطحی عوامی تبادلے کے میکانزم کے ایک اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔ برسلز میں اپنے قیام کے دوران وانگ ای بیلجیئم کے وزیر اعظم اور نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکھون نے پریس کانفرنس میں اس بارے میں کہا کہ وزیر خارجہ وانگ ای چین-یورپی یونین تعلقات اور اہم بین الاقوامی اور علاقائی امور پر یورپی یونین کے ساتھ خیالات کا تبادلہ کریں گے، باہمی تفہیم اور اعتماد میں اضافہ کریں گے، شراکت داروں کی پوزیشن کو مستحکم کریں گے، تعاون پر اتفاق رائے پیدا کریں گے، اختلافات کو مناسب طریقے سے حل کریں گے، اور چین-یورپی یونین کے رہنماؤں کے تبادلوں کے اگلے مرحلے کے لئے تیاری کریں گے۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: یورپی یونین کے وانگ ای کا دورہ کریں گے
پڑھیں:
وزارتِ خارجہ کی اپوسٹل سروسز کے ٹھیکوں پر سوالات، آڈٹ میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی
اسلام آباد (رضوان عباسی ) وزارتِ خارجہ کی قونصلر سروسز کے تحت اپوسٹل سروسز کے لیے کوریئر کمپنیوں کے انتخاب کے عمل پر آڈٹ نے کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق خدمات کے حصول میں پبلک پروکیورمنٹ رولز (پیپرا) کے تقاضوں پر مکمل عمل نہیں کیا گیا اور اوپن ٹینڈرنگ کے شواہد بھی ریکارڈ پر موجود نہیں ہیں۔ روزنامہ اوصاف کو حاصل دستاویزات کے مطابق 17 مئی 2024 سے اپوسٹل سروسز کے لیے ٹی سی ایس، لیوپرڈز، جیرینز، ایم اینڈ پی اور ایکسیلنٹ کوریئر سروسز (ECS) سمیت پانچ کوریئر کمپنیوں کو دستاویزات کی وصولی اور ترسیل کی ذمہ داری سونپی گئی۔ تاہم آڈٹ کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کے انتخاب کے لیے نہ تو اوپن کمپیٹیٹیو بڈنگ کی گئی اور نہ ہی واضح سلیکشن کرائٹیریا یا کاروباری اہلیت کا مکمل ریکارڈ دستیاب تھا۔آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہی طریقہ کار صرف اسلام آباد ہی نہیں بلکہ کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور گجرات میں قائم فارن آفس لیزن دفاتر (FALOs) میں بھی اختیار کیا گیا۔
رپورٹ میں ای سی ایس یعنی ایکسیلینٹ کورئیر سروسز کے انتخاب پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ آڈٹ کے مطابق ای سی ایس کمپنی کے قومی سطح پر متعلقہ تجربے، کاروباری پروفائل اور اہلیت سے متعلق مطلوبہ ریکارڈ دستیاب نہیں تھا۔ اس کے علاوہ کمپنی کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) سے متعلق دستاویزات بھی ریکارڈ پر موجود نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔آڈٹ رپورٹ میں یہ سفارش کی گئی ہے کہ پورے معاملے کی جامع تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور آئندہ سرکاری خریداری اور خدمات کے حصول میں پیپرا رولز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔وزارتِ خارجہ کی جانب سے آڈٹ رپورٹ میں اٹھائے گئے نکات پر تاحال باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔