خامنہ ای پہنچ سے دور ہونے کی وجہ سے نہیں مارے جا سکے، اسرائیل وزیر دفاع کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
اسرائیلی وزیر دفاع ’اسرائیل کاٹز‘ نے کہا ہے کہ اگر موقع ملتا تو اسرائیل ایرانی رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کر دیتا۔
ان کا یہ بیان ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے چند دن بعد سامنے آیا ہے، جس سے 2 ہفتے جاری رہنے والی کھلی دشمنی کا اختتام ہوا۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی شہدا کے لیے تہران میں قومی جنازے کا اعلان
اسرائیلی چینل 13 سے گفتگو کرتے ہوئے کاٹز نے کہا کہ میری رائے میں اگر خامنہ ای ہماری پہنچ میں ہوتے، تو ہم انہیں ختم کر دیتے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ خامنہ ای کو اس خطرے کا اندازہ ہو گیا تھا، اس لیے وہ زمین کے اندر گہرائی میں چلے گئے اور ان کمانڈرز سے رابطہ منقطع کر لیا جنہیں اسرائیل نے ہدف بنایا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہم انہیں ختم کرنا چاہتے تھے، مگر کوئی عملی موقع میسر نہ آیا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسرائیل نے اس حملے کے لیے امریکا سے اجازت لی تھی تو کاٹز نے جواب دیا کہ ایسے معاملات کے لیے ہمیں کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں۔
۔13 جون کے حملے: ایرانی رہنماؤں پر اسرائیلی فضائی حملے
13 جون کو اسرائیل نے ایران کے اعلیٰ عسکری عہدیداروں اور جوہری سائنسدانوں پر ایک سلسلہ وار فضائی حملے کیے۔ اسرائیلی موقف تھا کہ یہ حملے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے کیے گئے۔
ان حملوں میں ۔ایرانی چیف آف جنرل اسٹاف محمد باقری۔ اور ۔پاسداران انقلاب (IRGC) کے کمانڈر حسین سلامی ہلاک ہوئے۔ ابتدائی رپورٹس میں قدس فورس کے سربراہ ۔اسمائل قاآنی۔ کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا تھا، مگر بعد میں وہ غلط ثابت ہوا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل کاٹز اسرائیلی وزیر دفاع ایران رہبراعلیٰ سپریم لیڈر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل کاٹز اسرائیلی وزیر دفاع ایران رہبراعلی سپریم لیڈر خامنہ ای کے لیے
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔