ہندو انتہا پسند: اسلامی تاریخ سے وابستہ ’دہلی‘ کا نام بدلنے کی تیاری
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ہندو انتہا پسند حکمراں جماعت بی جے پی نے اب دارالحکومت دہلی کا نام تبدیل کرنے کے لیے کوششیں شروع کر دی ہیں۔
عالمی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی نے اب دارالحکومت دہلی کا نام تبدیل کرنے کے لیے کوششیں شروع کر دی ہیں۔بی جے پی کے دور حکومت میں نہ صرف اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے لیے جینا مشکل بنا دیا گیا ہے، وہیں کئی تاریخی اسلامی ناموں اور مسلم حکمرانوں سے منسوب شہروں کے نام بھی تبدیل کیے جا چکے ہیں۔ اب انتہا پسند جماعت کا نشانہ دارالحکومت دہلی بن رہا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق دارالحکومت دہلی کا نام بدل کر ہندو ازم پر رکھنے کے لیے پہلے وشو ہندو پریشد نے درخواست کی تھی اور اب تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مرکز میں حکمراں جماعت بی جے پی بھی اس معاملے میں کود پڑی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ پروین کھنڈیل والا نے اس معاملے پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھا ہے۔ اس خط میں انہوں نے دہلی کا نام ‘اندرا پرستھا’ رکھنے کی درخواست کی ہے۔
اس کے علاوہ بی جے پی رکن پارلیمنٹ پروین کھنڈیل نے پرانے دہلی کے ریلوے اسٹیشن اور بین الاقوامی ہوائی اڈوں کے نام بدلنے کی بھی مانگ کی ہے۔
اپنے خط میں ہندو انتہا پسند رہنما کا کہنا ہے کہ ملک کے دیگر تاریخی شہروں جیسے کہ پریاگ راج، ایودھیا، اوجین، اور واراناسی کے نام ان کی جڑوں کے مطابق ہیں، تو دہلی کیوں اس طرح نہیں ہو سکتا؟
پروین کھنڈیل والا نے بتایا کہ یہ خط انہوں نے امت شاہ کے ساتھ دہلی کے وزیر اعلیٰ ریکھا گوپتا اور دیگر وزرا کو بھی بھیجا ہے۔
واضح رہے کہ وشوا ہندو پریشد نے گزشتہ ماہ اسی نوعیت کی ایک درخواست دی تھی۔ اس میں انہوں نے دہلی کا نام انرا پرستھا رکھنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا تھا کہ نام کی یہ تبدیلی بھارتی تاریخ اور مہا بھارت کے دور کے بنیادی اصولوں کو اجاگر کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دارالحکومت دہلی ہندو انتہا پسند دہلی کا نام کے مطابق بی جے پی کے لیے
پڑھیں:
وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
ویب ڈیسک :وفاقی بجٹ پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ اب پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، وفاقی بجٹ 8 یا 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے، حتمی تاریخ کا تعین ابھی نہیں ہو سکا۔
آئی ایم ایف کے ساتھ پی ایس ڈی پی اور بجٹ مذاکرات ابھی جاری ہیں جس کی وجہ سے بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
ذرائع کے مطابق کل وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والا قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا ہے جس میں وفاقی اور صوبائی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی جانا تھی۔
قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور وزرائے خزانہ کی شرکت متوقع تھی، وزیراعظم آزادکشمیر نے بھی اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔
وزیراعظم کی ہدایت پر پی ایس ڈی پی میں 200 ارب روپے کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے، ترقیاتی بجٹ میں 200 ارب کے اضافے پر آئی ایم ایف کو بھی آگاہ کیا جائے گا، مختلف مالیاتی اقدامات کے ذریعے200 ارب کی ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کی جائے گی۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
قومی اقتصادی کونسل میں 4715 ارب کا ترقیاتی بجٹ پیش کئے جانے کا امکان ہے، وفاقی ترقیاتی بجٹ 1126کے بجائے 1326 ارب روپے ہونے کا امکان ہے۔
اجلاس میں صوبوں کیلئے 3138 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ بھی پیش کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل میں پنجاب کا 1450 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، سندھ کیلئے 816، خیبرپختونخوا کیلئے 564 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، بلوچستان کیلئے 308 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ