13 آبان، ظلم کے خلاف عوامی مزاحمت اور بیداری کی علامت ہے، دفاع مقدس کا قومی میوزیم
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
جاری کردہ بیان میں میوزیم نے ملک کے اساتذہ، والدین، اسکالرز اور ثقافتی امور کے مسئولین اور ماہرین سے اپیل کی کہ وہ نوجوان نسل میں تاریخی و انقلابی شعور کو گہرا کریں تاکہ انقلابِ اسلامی کی قیمتی میراث ہمیشہ محفوظ و تابندہ رہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران میں اسلامی انقلاب و دفاعِ مقدس کے قومی میوزیم نے یومِ اللہ ۱۳ آبان، یومِ ملّی مبارزه با استکبارِ جهانی اور یومِ دانشآموز (طلبہ کا دن) کے موقع پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے اس تاریخی اور حماسی دن کو ایران کی سربلند ملت، بالخصوص نوجوان نسل کو مبارک باد پیش کی ہے۔ تسنیم نیوز کے مطابق میوزیم دفاع مقدس کا اس مناسبت سے جاری کردہ بیان حسب ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
۱۳ آبان ہمیں اُس عوامی مزاحمت اور ظلمستیزی کی یاد دلاتا ہے جس کے ذریعے ملتِ ایران نے، اسلامِ نابِ محمدی ﷺ کی تعلیمات اور امام خمینیؒ کی قیادت سے الہام لے کر استکباری نظام کے مقابل ڈٹ کر کھڑے ہونے کا عزم کیا، اور ثابت کیا کہ آزادی و استقلال قربانی اور آگہی سے حاصل ہوتے ہیں۔ یہ دن اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ظلم، تجاوز اور سامراجی پالیسیوں کے مقابل اپنی اصولی و انقلابی موقف پر قائم ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انقلابِ اسلامی کے ضدِ استکباری پیغام کو آج اور آنے والی نسلوں تک پہنچانا ایک ملی و اخلاقی فریضہ ہے۔
اسلامی انقلاب و دفاعِ مقدس کا میوزیم اپنی ثقافتی، تعلیمی اور میڈیا صلاحیتوں کے ذریعے اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ انقلابی اور مؤمن نوجوانوں کی بصیرت، شجاعت اور استقامت کا بیانیہ مؤثر انداز میں بیان کرے گا، ان نوجوانوں کا جنہوں نے ۱۳ آبان کو اپنے خون سے "مرگ بر آمریکا" کا نعرہ تاریخ میں جاوداں کر دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ آج کی دنیا کے پرآشوب حالات میں استکبار کے خلاف جدوجہد محض ایک نعرہ نہیں، بلکہ انسانی کرامت، قومی خودمختاری اور سچائی کے دفاع کا باشعور راستہ ہے۔ میوزیم نے تمام طبقاتِ عوام، خصوصاً طلبہ اور اساتذہ سے اپیل کی ہے کہ وہ انقلابِ اسلامی کے مفاہیم اور عالمی استکبار کے مقابل مزاحمت کو درست انداز میں سمجھائیں۔
مزید کہا گیا کہ ایران کے موجودہ نوجوان، طلبہ اور دانشجویان ایمان، علم اور خوداعتمادی کے ساتھ اسی روشن راہ پر گامزن ہیں، انہوں نے مقاومت، ترقی اور عزتِ ملّی کا پرچم بلند رکھا ہے اور یہ ظاہر کر دیا ہے کہ آزادی و عدالت کی راہ ابھی جاری ہے۔ آخر میں بیان میں شہداء طلبہ بالخصوص 12 روزہ دفاعِ مقدس کے شہید طلبہ کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، اور اس امر پر زور دیا گیا کہ دشمن کی ثقافتی و میڈیا سازشوں کے مقابل بیداری و بصیرت ناگزیر ہے۔ میوزیم نے ملک کے اساتذہ، والدین، اسکالرز اور ثقافتی امور کے مسئولین اور ماہرین سے اپیل کی کہ وہ نوجوان نسل میں تاریخی و انقلابی شعور کو گہرا کریں تاکہ انقلابِ اسلامی کی قیمتی میراث ہمیشہ محفوظ و تابندہ رہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔