بیوی کے زیورات لینا ظلم نہیں،دہلی ہائی کورٹ
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دہلی:بھارت کی عدالت عالیہ نے بیوی کے زیورات لینے کو جائز قرار دیتے ہوئے اسے ظلم ماننے سے انکار کردیا۔
دہلی ہائی کورٹ نے ازدواجی تنازع کے معاملے میں ایک اہم فیصلہ دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بیوی کے زیورات لینے سے اس کے خلاف ظلم کا معاملہ نہیں چلایا جا سکتا ہے۔ جسٹس نینا بنسل کرشنا نے شوہر کے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کر دیا ہے۔
یہ معاملہ ایک وکیل اور اس کے سابق موکلہ کے درمیان فلمی محبت کی کہانی پر مبنی تھا، جو قانونی پیچیدگیوں اور طلاق کے الزامات سے ہوا۔
درحقیقت ایک وکیل نے اپنے مو ¿کلہ کا طلاق کروایا۔ مدد کرتے کرتے پیار ہوگیا، دونوں نے 2007 میں شادی کر لی۔
لیکن شادی کے تین سال بعد معلوم ہوا کہ خاتون کی پہلی طلاق 2010 میں ہوئی تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ یہ شادی قانونی طور پر کبھی نہیں ہوئی تھی۔ بیوی نے طیش میں آکر شوہر کے خلاف ایف آئی آر درج کرا دی۔
ایف آئی آر میں خاتون نے الزام لگایا کہ اس کے شوہر نے ان کے مشترکہ اکائونٹ سے لاکھوں روپے نکال کر مالی فراڈ کیا ہے۔ اس نے گھر کے لاکر سے لاکھوں روپے کے زیورات بھی نکالے، اسے گروی رکھ دیا اور نیا گھر خریدا۔
جب اس نے اس سے اس معاملے کے بارے میں سوال کیا تو اس نے اسے دھمکی دی اور نجی ویڈیوز لیک کرنے کی دھمکی بھی دی۔ بیوی نے الزامات کی بنیاد پر دفعہ 498اے کے تحت ایف آئی آر درج کرا دیا۔
خاتون نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ اس شخص نے گھر خریدنے کے لیے زیورات گروی رکھنے کا اعتراف کیا ہے اور اس کی ویڈیوز لیک کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔
شوہر کی عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ اس کی بیوی نے اسے دھوکہ دیا اور اس حقیقت کو چھپایا کہ اس نے اپنے پہلے شوہر کو 2010 میں طلاق دی تھی حالانکہ اس کی شادی پہلے ہی ہو چکی تھی۔
سماعت کے دوران دہلی پولیس نے بھی اعتراف کیا کہ خاتون نے کیس سے متعلق کچھ حقائق چھپائے تھے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا کہ اگر کوئی مرد واقعتاً اپنی بیوی کے ساتھ ظلم کرتا ہے تو اسے اس جرم کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی عدالت نے شوہر کے خلاف درج ایف آئی آر منسوخ کر دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایف آئی آر کے زیورات بیوی کے نے اپنے کے خلاف
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.