Jasarat News:
2026-06-02@22:58:38 GMT

بیوی کے زیورات لینا ظلم نہیں،دہلی ہائی کورٹ

اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دہلی:بھارت کی عدالت عالیہ نے بیوی کے زیورات لینے کو جائز قرار دیتے ہوئے اسے ظلم ماننے سے انکار کردیا۔

دہلی ہائی کورٹ نے ازدواجی تنازع کے معاملے میں ایک اہم فیصلہ دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بیوی کے زیورات لینے سے اس کے خلاف ظلم کا معاملہ نہیں چلایا جا سکتا ہے۔ جسٹس نینا بنسل کرشنا نے شوہر کے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کر دیا ہے۔

یہ معاملہ ایک وکیل اور اس کے سابق موکلہ کے درمیان فلمی محبت کی کہانی پر مبنی تھا، جو قانونی پیچیدگیوں اور طلاق کے الزامات سے ہوا۔

 درحقیقت ایک وکیل نے اپنے مو ¿کلہ کا طلاق کروایا۔ مدد کرتے کرتے پیار ہوگیا، دونوں نے 2007 میں شادی کر لی۔

 لیکن شادی کے تین سال بعد معلوم ہوا کہ خاتون کی پہلی طلاق 2010 میں ہوئی تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ یہ شادی قانونی طور پر کبھی نہیں ہوئی تھی۔ بیوی نے طیش میں آکر شوہر کے خلاف ایف آئی آر درج کرا دی۔

ایف آئی آر میں خاتون نے الزام لگایا کہ اس کے شوہر نے ان کے مشترکہ اکائونٹ سے لاکھوں روپے نکال کر مالی فراڈ کیا ہے۔ اس نے گھر کے لاکر سے لاکھوں روپے کے زیورات بھی نکالے، اسے گروی رکھ دیا اور نیا گھر خریدا۔

 جب اس نے اس سے اس معاملے کے بارے میں سوال کیا تو اس نے اسے دھمکی دی اور نجی ویڈیوز لیک کرنے کی دھمکی بھی دی۔ بیوی نے الزامات کی بنیاد پر دفعہ 498اے کے تحت ایف آئی آر درج کرا دیا۔

خاتون نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ اس شخص نے گھر خریدنے کے لیے زیورات گروی رکھنے کا اعتراف کیا ہے اور اس کی ویڈیوز لیک کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔

شوہر کی عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ اس کی بیوی نے اسے دھوکہ دیا اور اس حقیقت کو چھپایا کہ اس نے اپنے پہلے شوہر کو 2010 میں طلاق دی تھی حالانکہ اس کی شادی پہلے ہی ہو چکی تھی۔

سماعت کے دوران دہلی پولیس نے بھی اعتراف کیا کہ خاتون نے کیس سے متعلق کچھ حقائق چھپائے تھے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا کہ اگر کوئی مرد واقعتاً اپنی بیوی کے ساتھ ظلم کرتا ہے تو اسے اس جرم کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی عدالت نے شوہر کے خلاف درج ایف آئی آر منسوخ کر دی۔

ویب ڈیسک Faiz alam babar.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایف آئی آر کے زیورات بیوی کے نے اپنے کے خلاف

پڑھیں:

سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔

پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں،  وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔

کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ