ایران کے خلاف جنگ میں اسرائیل کو 20ارب ڈالر کا نقصان
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران(صباح نیوز)ایران کے خلاف 12 روزہ جنگ کے دوران اسرائیل کو تقریباً 12 ارب ڈالر کا براہِ راست نقصان پہنچا ہے جبکہ مجموعی نقصان 20 ارب ڈالر تک جا سکتا ہے۔ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے پریس ٹی وی نے بتایا ہے کہ اسرائیلی میڈیا اور معاشی رپورٹس کے مطابق یہ نقصانات فوجی اخراجات، میزائل حملوں سے ہونے والے نقصانات، متاثرہ افراد و کاروباروں کو کی گئی ادائیگیوں، اور بنیادی ڈھانچے کی مرمت پر مشتمل ہیں۔ماہرین خبردار کر
رہے ہیں کہ جب بالواسطہ اقتصادی اثرات اور شہریوں کے معاوضہ جات کو شامل کیا جائے گا تو نقصان 20 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔اسرائیلی اخبار یدیعوت آحرونوت کے مطابق، اسرائیلی خزانے کو 22 ارب شیکل (تقریباً 6.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ارب ڈالر
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔