بھارتی و انگلش بورڈ کا سعودی کرکٹ لیگ کے خلاف اتحاد، 400 ملین ڈالر کا دھچکا
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دبئی / لندن / ممبئی:سعودی عرب کی جانب سے بین الاقوامی سطح پر کرکٹ کی ایک نئی اور پُرکشش ٹی20 لیگ متعارف کرانے کے منصوبے کو اس وقت بڑا دھچکا پہنچا جب بھارت اور انگلینڈ کے کرکٹ بورڈز نے نہ صرف حمایت واپس لے لی بلکہ اس کے خلاف باقاعدہ حکمت عملی پر بھی عمل شروع کر دیا ہے۔
برطانوی اخبار دی گارڈین اور دیگر میڈیا ذرائع کی رپورٹس کے مطابق سعودی کرکٹ لیگ کا 400 ملین امریکی ڈالر کا منصوبہ اب خطرے میں پڑ چکا ہے۔
سعودی عرب کی کرکٹ کے میدان میں سرمایہ کاری کی دلچسپی کسی سے پوشیدہ نہیں رہی اور اس نے ایک بین الاقوامی معیار کی لیگ متعارف کروانے کے لیے دنیا بھر سے اسٹار کرکٹرز اور بورڈز کو قائل کرنے کی کوشش کی۔ مجوزہ لیگ میں 8 ٹیمیں شامل ہونی تھیں جنہیں ٹینس کے گرینڈ سلیمز فارمیٹ پر مختلف ممالک میں میچز کھیلنے کی تجویز دی گئی تھی۔ اس منفرد طرز پر مبنی ماڈل کو مارکیٹنگ اور گلوبل اسپانسرز کی سطح پر بڑی کامیابی تصور کیا جا رہا تھا۔
تاہم کرکٹ کے 2بڑے اور طاقتور بورڈز بی سی سی آئی (بھارتی کرکٹ بورڈ) اور ای سی بی (انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ) نے سعودی منصوبے کو اپنی موجودہ لیگز کے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے نہ صرف اس سے لاتعلقی اختیار کی بلکہ اس کی مخالفت میں متحد ہو گئے۔
دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق دونوں بورڈز نے باہمی اتفاق سے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنے کھلاڑیوں کو سعودی لیگ میں شرکت کے لیے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) جاری نہیں کریں گے۔
اس کے ساتھ ہی دونوں بورڈز نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل میں لابنگ کے ذریعے سعودی لیگ کو بین الاقوامی حیثیت نہ دینے کے لیے بھی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔ یہ صورتحال سعودی حکام کے لیے غیر متوقع اور تشویشناک ہے کیونکہ سعودی کرکٹ اتھارٹی اس منصوبے کو صرف ایک تفریحی ایونٹ کے طور پر نہیں بلکہ ایک مستقل اور عالمی سطح کی کرکٹ پراپرٹی کے طور پر متعارف کروانا چاہتی تھی۔
دوسری جانب کرکٹ آسٹریلیا نے اس منصوبے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے اور سعودی سرمایہ کاروں کے ساتھ شراکت داری کی خواہش کا مظاہرہ کیا ہے۔ آسٹریلوی بورڈ کی بڑی پریشانی یہ ہے کہ اس کی موجودہ بگ بیش لیگ فرنچائزز ریاستی کنٹرول میں ہیں اور وہاں نجی سرمایہ کاری کا نظام محدود ہے۔ سعودی لیگ جیسے ماڈلز کرکٹ آسٹریلیا کے لیے مالی منفعت کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ بھارت کی آئی پی ایل اس وقت دنیا کی سب سے مہنگی کرکٹ لیگ ہے، جس کی مارکیٹ ویلیو 12 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے جب کہ انگلینڈ کی دی ہنڈریڈ لیگ بھی سرمایہ کاروں کے لیے کشش رکھتی ہے اور اپنی 49 فیصد ٹیم حصص فروخت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ایسے میں سعودی عرب کی انٹری ان لیگز کے تجارتی مفادات کے لیے براہ راست خطرہ بن سکتی تھی۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 3سال قبل جنوبی افریقا نے بھی اپنی ٹی20 لیگ کی فرنچائزز بھارتی سرمایہ کاروں کو فروخت کرکے 136 ملین امریکی ڈالر کی رقم جمع کی تھی۔ اس پس منظر میں سعودی عرب کا منصوبہ نہ صرف کرکٹ کی موجودہ طاقتوں کو چیلنج کر سکتا تھا بلکہ عالمی کرکٹ کا توازن بھی بدلنے کا امکان رکھتا تھا۔
یہ تمام حقائق اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اگرچہ سعودی عرب کے پاس وسائل اور ویژن موجود ہے، لیکن عالمی کرکٹ میں پہلے سے موجود طاقتور مفادات کی دیواریں توڑنا آسان نہیں ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا
پروپیگنڈا اور گمراہ کن دعوؤں کے برعکس بھارتی نوجوان نے شکست خوردہ مودی حکومت کو آئینہ دکھا دیا۔
دہلی میں بھارتی مظاہرین نے آپریشن سندور میں شکست اورناکامی کو چھپانے کیلئےفوجیوں کی ہلاکت کو دبانے کے پاکستانی مؤقف کی تائید کر دی۔ دہلی میں مظاہرین نے تشدد کرنےوالے پولیس اہلکاروں کو مخاطب کر کے کہاکہ حکومت نے آپریشن سندور میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی شناخت اور ان کی قربانیوں کو عوام سے چھپایا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ جو حکومت اپنے فوجیوں کی قربانیوں کو نظر انداز کرے، وہ کسی بھی اہلکار کے ساتھ ایسا کر سکتی ہے ، حکومت کو پولیس اور فوجی جوانوں کی زندگیوں اور قربانیوں کی کوئی پروا نہیں ہے۔
آپریشن سندور میں ہلاک ہونے والے فوجی جوانوں کے نام اور قربانیوں کو حکومتی سطح پر نظر انداز کیا گیا، تم حکومت کا ساتھ دیتے ہو،لیکن یہی حکومت تمہاری موت کے بعد تمہاری شناخت تک چھپا دیتی ہے۔
بھارتی عوام کا مودی کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ان کے پوسٹر پھاڑ رہے ہیں اور ان کی تصویر پر چپلیں برسا رہے ہیں۔