Jasarat News:
2026-07-24@06:52:29 GMT

انٹرنیشنل کرکٹ میں نئے قوانین متعارف کرادیے گئے

اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دبئی: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے وائٹ بال کے بعد ٹیسٹ کرکٹ میں بھی اسٹاپ کلاک متعارف کرانے کا فیصلہ کرلیا ان بوجھ کر گیند پر تھوک کے استعمال کے بعد گیند تبدیل نہیں ہوگی۔

کرکٹ کی ویب سائٹ ’کرک انفو‘ کی رپورٹ کے مطابق آئی سی سی نے مینز انٹرنیشنل کرکٹ کے لیے اپنے قوانین میں متعدد تبدیلیوں کی منظوری دی ہے۔ان قوانین میں باؤنڈری پر کیچ سے متعلق نئی قوانین اور ون ڈے میچز میں 35ویں اوور کے بعد صرف ایک گیند استعمال کرنے کا فیصلہ شامل ہے جب کہ کچھ تبدیلیاں پہلے ہی 27-2025 کے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن کے ساتھ نافذ ہوچکی ہیں جب کہ وائٹ بال سے متعلق نئے قوانین 2 جولائی سے نافذ ہوں گے۔

سلو اوور ریٹ کے مسئلے کے حل کے لیے، ٹیسٹ کرکٹ میں بھی ’اسٹاپ کلاک‘ متعارف کرا دی گئی ہے۔ نئے قانون کے مطابق فیلڈنگ سائیڈ کو ہر اوور کے اختتام کے ایک منٹ کے اندر نیا اوور شروع کرنا ہوگا، خلاف ورزی پر امپائر 2 بار وارننگ دیں گے، وارننگز کے بعد اگر خلاف ورزی جاری رہی تو بولنگ ٹیم پر 5 رنز کی پنالٹی عائد کی جائے گی، ہر 80 اوور کے بعد وارننگز ری سیٹ کر دی جائیں گی۔

اگرچہ گیند پر تھوک لگانے پر پابندی برقرار ہے لیکن اب یہ لازمی نہیں رہا کہ تھوک لگنے پر فوراً گیند تبدیل کی جائے، اس کا مقصد یہ ہے کہ کوئی ٹیم جان بوجھ کر گیند کو تبدیل کروانے کے لیے تھوک نہ لگائے۔اب گیند صرف اس صورت میں تبدیل جائے گی اگر اس کی حالت میں واضح تبدیلی (مثلاً بہت گیلی ہو جائے یا حد سے زیادہ چمک آ جائے)، یہ فیصلہ مکمل طور پر امپائر کی صوابدید پر ہوگا۔

اگر امپائر نے فیصلہ کیا کہ تھوک نے گیند پر اثر نہیں ڈالا، تو پھر گیند تبدیل نہیں کی جائے گی، چاہے گیند بعد میں سوئنگ کیوں نہ کرنے لگے، تاہم بیٹنگ ٹیم کو اس صورت میں پانچ رنز دیے جائیں گے۔ فرض کریں ایک بلے باز کو کیچ آؤٹ قرار دیا گیا اور اس نے ریویو لیا اور الٹرا ایج سے پتا چلا کہ گیند نے صرف پیڈ کو چھوا، بیٹ کو نہیں۔اب امپائر بال ٹریکنگ کے ذریعے ایل بی ڈبلیو کیلئے چیک کرے گا کہ آیا بلے باز آؤٹ تو نہیں۔

پرانے قانون کے مطابق اگر کیچ آؤٹ غلط ثابت ہوتا، تو ایل بی ڈبلیو چیک کرتے وقت ’اصل فیصلہ‘ ناٹ آؤٹ سمجھا جاتا، اور اگر امپائرز کال آجاتی تو بیٹر کی بچت ہوتی۔

تاہم، نئے قانون کے مطابق اب ایل بی ڈبلیو کے لیے بال ٹریکنگ میں ’اصل فیصلہ‘ آؤٹ تصور ہوگا، لہٰذا اگر بال ٹریکنگ میں امپائرز کال ہو تو بھی بلے باز آؤٹ قرار پائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے مطابق کے بعد کے لیے

پڑھیں:

دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس

دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔

دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر

نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔

ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟

ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔

کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟

حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔

دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس