وزیر ٹرانسپورٹ سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ حکومت خواتین کو پنک اسکوٹیز کی فراہمی کا دوسرا مرحلہ جلد شروع کرنے جارہی ہے۔سندھ کے سینئر وزیر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے خواتین کو مفت ٹریننگ کے ساتھ مفت لائسنس بھی فراہم کیے جارہے ہیں. طالبات اور ملازمت پیشہ خواتین کو اسکوٹیز کی فراہمی کا مقصد ان کو روزمرہ کے سفری مسائل سے نجات دلانا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خواتین ڈرائیونگ لائسنس بنوائیں.

تربیتی کورسز میں حصہ لیں اور پنک اسکوٹیز پروگرام کے دوسرے مرحلے میں رجسٹریشن کرائیں۔انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں پنک اسکوٹیز کے منصوبے کو عوام کی طرف سے غیر معمولی پذیرائی ملی.درجنوں خواتین نے ڈرائیونگ سیکھی اور لائسنس حاصل کرنے کے بعد اپنی روزمرہ مصروفیات کے لیے پنک اسکوٹیز کو اپنایا۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ حکومت چاہتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ خواتین اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں اور محفوظ، باوقار انداز میں اپنے تعلیمی و پیشہ ورانہ سفر کو جاری رکھیں۔ان کا کہنا تھا کہ پیپلز بس سروس، پنک بس سروس، الیکٹرک بس سروس اور اب پنک اسکوٹیز جیسے منصوبوں کا مقصد شہریوں کو سستی، محفوظ اور باوقار سفری سہولتیں فراہم کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ خواتین کو سماجی اور معاشی طور پر مضبوط بنانا صرف ایک حکومتی منصوبہ نہیں .بلکہ پیپلز پارٹی کی سیاسی اور انسانی فلسفے کا حصہ ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ خواتین کو بااختیار بنانا پیپلز پارٹی کے نظریاتی سفر کا مرکزی ستون ہے. یہ مشن شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے اس وژن کا تسلسل ہے۔

الیکٹرک موٹر سائیکلوں کے حصول کے لیے درخواستیں سندھ ورکرز ویلیفیئربورڈ کی ویب سائٹ پر جمع کروائی جا سکتی ہیں۔

اہلیت کا معیار
رجسٹرڈ صنعت میں کام کرنا
عمر کی حد 20 سے 45 برس
20 فیصد اقلیتی کوٹہ مختص
انتخاب کے لیے ڈیجیٹل قرعہ اندازی
7 سال بائیک کو پاس رکھنے کی لازمی شرط
ڈرائیونگ لائسنس کے لیے 60 دن کی مہلت
درخواست کیسے جمع کروائیں؟
اہل خواتین ڈبلیو ڈبلیو بی ایس کے پورٹل کے ذریعے رجسٹریشن کرا سکتی ہیں. جمع کروائی گئی درخواستوں کی تصدیق ای او بی آئی/سیسی اور آجر کے سرٹیفکیٹ کے ذریعے کی جائے گی۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پنک اسکوٹیز خواتین کو نے کہا کے لیے

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود