سندھ حکومت کا بااختیار خواتین کی جانب ایک اور قدم , پنک اسکوٹی فیز 2 کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
وزیر ٹرانسپورٹ سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ حکومت خواتین کو پنک اسکوٹیز کی فراہمی کا دوسرا مرحلہ جلد شروع کرنے جارہی ہے۔سندھ کے سینئر وزیر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے خواتین کو مفت ٹریننگ کے ساتھ مفت لائسنس بھی فراہم کیے جارہے ہیں. طالبات اور ملازمت پیشہ خواتین کو اسکوٹیز کی فراہمی کا مقصد ان کو روزمرہ کے سفری مسائل سے نجات دلانا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خواتین ڈرائیونگ لائسنس بنوائیں.
الیکٹرک موٹر سائیکلوں کے حصول کے لیے درخواستیں سندھ ورکرز ویلیفیئربورڈ کی ویب سائٹ پر جمع کروائی جا سکتی ہیں۔
اہلیت کا معیار
رجسٹرڈ صنعت میں کام کرنا
عمر کی حد 20 سے 45 برس
20 فیصد اقلیتی کوٹہ مختص
انتخاب کے لیے ڈیجیٹل قرعہ اندازی
7 سال بائیک کو پاس رکھنے کی لازمی شرط
ڈرائیونگ لائسنس کے لیے 60 دن کی مہلت
درخواست کیسے جمع کروائیں؟
اہل خواتین ڈبلیو ڈبلیو بی ایس کے پورٹل کے ذریعے رجسٹریشن کرا سکتی ہیں. جمع کروائی گئی درخواستوں کی تصدیق ای او بی آئی/سیسی اور آجر کے سرٹیفکیٹ کے ذریعے کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پنک اسکوٹیز خواتین کو نے کہا کے لیے
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔