خیبرپختونخوا حکومت کا 3 ایم پی او، 16 ایم پی او اور دفعہ 144 میں تبدیلی کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
خیبرپختونخوا حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ 3 ایم پی او، 16 ایم پی او اور دفعہ 144 میں تبدیلی کی جائے گی تاکہ ان قوانین کو سیاسی دباؤ یا انتقامی کارروائی کے لیے استعمال ہونے سے روکا جا سکے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت ہفتے کو ایک اہم اجلاس وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا، جس میں 3 ایم پی او، 16 ایم پی او اور دفعہ 144 کے حوالے سے تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں طے پایا کہ صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کی زیر نگرانی ایک چار رکنی کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جو ان قوانین میں اصلاحات کی سفارشات پیش کرے گی۔ ان اصلاحات کا مقصد یہ ہے کہ قوانین کو سیاسی دباؤ یا انتقامی کارروائی کے لیے استعمال ہونے سے روکا جا سکے۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ آزادی اظہار رائے اور پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، تاہم عوامی سہولت اور احتجاج کے حق میں توازن قائم کرنے کے لیے نیا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔ اس لائحہ عمل کا مقصد یہ ہوگا کہ احتجاج کے دوران عوام کو تکلیف کا سامنا نہ ہو۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ ہر قانون کے مثبت اور منفی پہلو ہوتے ہیں اور بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وژن کے مطابق قوانین کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ سیاسی انتقام کے امکانات والے نکات کو قوانین سے نکال دیا جائے گا، کیونکہ ان قوانین کا اصل مقصد عوامی مفاد اور فلاح ہے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ اور سہولت کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ہر اقدام کا مقصد عوام کی فلاح و بہبود ہونا چاہیے۔
اس اجلاس میں صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم، چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ محمد عابد مجید اور ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل اتمانخیل بھی شریک تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایم پی او
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔