امریکی حملے میں ایرانی جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا: ڈائریکٹر سی آئی اے
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر کیے گئے امریکی حملوں کے نتیجے میں اس کی جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
اپنے بیان میں جان ریٹکلف کا کہنا تھا کہ سی آئی اے کی معلومات اور جدید انٹیلی جنس سسٹمز سے حاصل ہونے والی رپورٹس کے مطابق امریکی کارروائیوں کے دوران متعدد ایرانی جوہری تنصیبات تباہ ہو چکی ہیں، اور ان کی دوبارہ تعمیر میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی میڈیا میں یہ رپورٹس گردش کر رہی ہیں کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ نہیں کیا گیا اور اس کا جوہری پروگرام بدستور جاری ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی جوہری تنصیبات سے متعلق خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے سی این این اور دیگر امریکی میڈیا اداروں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا، صحافیوں کو ذہنی مریض قرار دیا اور میڈیا کو “کچرا” کہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جوہری تنصیبات
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔