امریکی حملے میں ایرانی جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا: ڈائریکٹر سی آئی اے
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر کیے گئے امریکی حملوں کے نتیجے میں اس کی جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
اپنے بیان میں جان ریٹکلف کا کہنا تھا کہ سی آئی اے کی معلومات اور جدید انٹیلی جنس سسٹمز سے حاصل ہونے والی رپورٹس کے مطابق امریکی کارروائیوں کے دوران متعدد ایرانی جوہری تنصیبات تباہ ہو چکی ہیں، اور ان کی دوبارہ تعمیر میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی میڈیا میں یہ رپورٹس گردش کر رہی ہیں کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ نہیں کیا گیا اور اس کا جوہری پروگرام بدستور جاری ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی جوہری تنصیبات سے متعلق خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے سی این این اور دیگر امریکی میڈیا اداروں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا، صحافیوں کو ذہنی مریض قرار دیا اور میڈیا کو “کچرا” کہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جوہری تنصیبات
پڑھیں:
روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
روس(نیوز ڈیسک)روس نے منگل کی صبح یوکرین پر سیکڑوں ڈرونز اور درجنوں میزائلوں سے شدید حملے کیے جن کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق حملے کیف اور ڈنیپرو سمیت مختلف شہروں پر کیے گئے۔ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں کیف پر یہ تیسرا بڑا حملہ تھا۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نےکہا کہ رات بھر ہونے والے حملوں میں روس نے 73 میزائل اور 600 سے زائد ڈرونز داغے۔ انہوں نے ایک بار پھر امریکا سے مطالبہ کیا کہ یوکرین کے کم ہوتے ذخائر کو پورا کرنے کے لیے مزید پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام فراہم کیے جائیں۔
حکام کے مطابق کیف ان حملوں کا مرکزی ہدف تھا، جہاں کم از کم 9 بلند و بالا عمارتوں، ایک اسکول، ایک کلینک، دفاتر اور انتظامی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
بجلی فراہم کرنے والی یوکرینی کمپنی کے مطابق حملے کے باعث عارضی طور پر ایک لاکھ 40 ہزار افراد بھی بجلی سے محروم ہوگئے۔
یوکرینی فضائیہ نے بتایا کہ روس نے مجموعی طور پر 656 ڈرونز اور 73 میزائل فائر کیے جن میں 33 بیلسٹک میزائل اور 8 زرکون ہائپرسونک میزائل شامل تھے، جو اس جنگ کے دوران اس نوعیت کے میزائلوں کا ممکنہ طور پر سب سے بڑا استعمال ہے۔
روس کے مطابق زرکون میزائل کی رینج 1000 کلومیٹر ہے اور یہ آواز کی رفتار سے 9 گنا زیادہ تیزی سے سفر کرتا ہے۔
یوکرینی فضائیہ کے مطابق 40 میزائلوں اور 602 ڈرونز کو مار گرایا یا ناکارہ بنا دیا گیا تاہم گرائے گئے میزائلوں میں زرکون میزائلوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیں۔رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا