غزہ میں اسرائیلی لوگ بے قصور لوگوں کا قتل عام کررہے ہیں، اسد الدین اویسی
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ہم سب دیکھ رہے ہیں کہ غزہ میں فلسطینیوں کا کیسے قتل عام کیا جا رہا ہے، خواتین، بچوں اور بزرگوں کو بھی نہیں بخشا گیا جو انیسات کے نام پر کلنک ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے غزہ میں فلسطینیوں پر ہو رہے مظالم سے متعلق اسرائیل وزیراعظم نتن یاہو پر سخت تنقید کی۔ اسد الدین اویسی نے کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ سیدھا انسانیت کے خلاف ہے اور اس کے لئے جوابدہی ضروری ہے۔ حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے کہا "ہم سب دیکھ رہے ہیں کہ غزہ میں فلسطینیوں کا کیسے قتل عام کیا جا رہا ہے۔ خواتین، بچوں اور بزرگوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔ یہ انیسات کے نام پر کلنک ہے"۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس (آئی سی جے) نے نتن یاہو کے خلاف وارنٹ جاری کردیا ہے، ہم خدا سے دعا کرتے ہیں کہ جس نے یہ ظلم کئے ہیں، خدا اسے نست و نابود کردے۔ انہوں نے اس دوران ترکیہ اور آذربائیجان پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب پاکستان اور ہندوستان میں کشیدگی ہوئی، تب ترکیہ اور آذربائیجان پاکستان کی حمایت میں کھل کر سامنے آئے، لیکن جب بات فلسطین پر ہو رہے حملوں کی آتی ہے تب یہ ملک اسرائیل کے خلاف بولنے سے کتراتے ہیں، یہ دوہرا رویہ ہے۔
اسد الدین اویسی نے کہا تھا کہ ہندوستان ہمیشہ سے فلسطین کی حمایت کرتا رہا ہے، اس لئے ہندوستان کو یہ یقینی بنانا چاہیئے کہ غزہ میں قتل عام بند ہو اور بھوک سے مر رہے لوگوں کو کھانا دستیاب کرایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں "آئی ایس آئی ایس" کے دہشت گرد نہیں بلکہ اسرائیلی لوگ بے قصور لوگوں کا قتل عام کررہے ہیں، جو وہاں ڈرگس بیچتے ہیں، یہ بے حد بدقسمتی والا ہے۔ اس دوران اسدالدین اویسی نے کہا کہ جو لوگ مانتے ہیں کہ وہ وقف ترمیم جیسے قانون بناکر مسلم طبقے کو خوفزدہ کرسکتے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیئے کہ مودی یا بی جے پی حکومت ہم سے وقف کے تحت زمین نہیں چھین سکتی۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ مسلمانوں کو یہ قانون بناکر ڈرایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مودی اور مودی کی حکومت ہم سے ایک انچ زمین بھی نہیں چھین پائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: الدین اویسی نے کہا اسد الدین اویسی کہ غزہ میں نے کہا کہ انہوں نے قتل عام رہے ہیں ہیں کہ رہا ہے
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔