غزہ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیل کے مختلف حملوں کے نتیجے میں میں کم از کم 72 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ یورپی یونین کے رہنماؤں نے غزہ پر اسرائیل کی جاری جنگ کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں ہونے والے اجلاس کے دوران رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

’فوری جنگ بندی ناگزیر ہے‘

اجلاس کے اختتام پر جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ

’ہم اسرائیل اور فلسطین کے درمیان فوری اور دیرپا جنگ بندی کے حامی ہیں۔ انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لیے جنگ کا خاتمہ ضروری ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے اسرائیل اور امریکا کے درمیان 2 ہفتوں میں غزہ جنگ کے خاتمے پر اتفاق، اسرائیلی اخبار کا دعویٰ

یورپی یونین نے غزہ میں انسانی بحران پر بھی تشویش ظاہر کی اور تمام فریقین سے بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری کا مطالبہ کیا ہے۔

ایران-اسرائیل کشیدگی پر تشویش

یورپی رہنماؤں نے اسرائیل اور ایران کے درمیان غیر مستحکم جنگ بندی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دیا۔

’یہ کمزور جنگ بندی کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں پورے مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔‘

بیان میں کہا گیا کہ یورپی یونین سفارتی کوششوں کے ذریعے خطے میں امن قائم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

غزہ پر اسرائیلی حملوں میں 24 گھنٹوں کے دوران 72 افراد شہید

غزہ کے اسپتال ذرائع نے معروف عرب ٹیلی ویژن چینل ’الجزیرہ کو بتایا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیل کے مختلف حملوں کے نتیجے میں میں کم از کم 72 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

انسانی امداد کے دوران بھی خونریزی جاری

غزہ کے سرکاری میڈیا دفتر کے مطابق، گزشتہ 4 ہفتوں کے دوران 549 فلسطینی اسرائیلی اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے اس وقت شہید ہوئے جب وہ انسانی امداد تک رسائی کی کوشش کر رہے تھے۔
اسی عرصے میں 4,066 افراد زخمی بھی ہوئے، جن میں زیادہ تر غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن کے امدادی مراکز کے قریب متاثر ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے غزہ میں جنگ بہت سخت، بوجھ ناقابل برداشت، اسرائیلی صدر کا اعتراف

جنگ کا خوفناک اعداد و شمار

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے آغاز سے اب تک کم از کم 56,259 افراد شہید ہو چکے ہیں۔ جبکہ 132,458 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

غزہ میں انسانی بحران مزید گہرا

اسرائیلی جارحیت نہ صرف عام شہریوں کی جان لے رہی ہیں بلکہ اس کے سبب خوراک، پانی، ادویات اور بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی بند ہو چکی ہے۔

اقوامِ متحدہ اور عالمی انسانی حقوق تنظیموں نے بھی فوری جنگ بندی اور محفوظ انسانی راہداریوں کا مطالبہ کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل غزہ فلسطین یورپی یونین.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل فلسطین یورپی یونین یورپی یونین کا مطالبہ کے دوران شہید ہو کے لیے

پڑھیں:

شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔

ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔

ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔

دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔

موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔

قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔

تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔

شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔

مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟

اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی