غزہ: 24 گھنٹوں میں 72 شہید، یورپی یونین کے رہنماؤں کا اسرائیلی جنگ فی الفور ختم کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
غزہ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیل کے مختلف حملوں کے نتیجے میں میں کم از کم 72 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ یورپی یونین کے رہنماؤں نے غزہ پر اسرائیل کی جاری جنگ کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں ہونے والے اجلاس کے دوران رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
’فوری جنگ بندی ناگزیر ہے‘اجلاس کے اختتام پر جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ
’ہم اسرائیل اور فلسطین کے درمیان فوری اور دیرپا جنگ بندی کے حامی ہیں۔ انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لیے جنگ کا خاتمہ ضروری ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے اسرائیل اور امریکا کے درمیان 2 ہفتوں میں غزہ جنگ کے خاتمے پر اتفاق، اسرائیلی اخبار کا دعویٰ
یورپی یونین نے غزہ میں انسانی بحران پر بھی تشویش ظاہر کی اور تمام فریقین سے بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری کا مطالبہ کیا ہے۔
ایران-اسرائیل کشیدگی پر تشویشیورپی رہنماؤں نے اسرائیل اور ایران کے درمیان غیر مستحکم جنگ بندی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دیا۔
’یہ کمزور جنگ بندی کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں پورے مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔‘
بیان میں کہا گیا کہ یورپی یونین سفارتی کوششوں کے ذریعے خطے میں امن قائم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
غزہ پر اسرائیلی حملوں میں 24 گھنٹوں کے دوران 72 افراد شہیدغزہ کے اسپتال ذرائع نے معروف عرب ٹیلی ویژن چینل ’الجزیرہ‘ کو بتایا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیل کے مختلف حملوں کے نتیجے میں میں کم از کم 72 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
انسانی امداد کے دوران بھی خونریزی جاریغزہ کے سرکاری میڈیا دفتر کے مطابق، گزشتہ 4 ہفتوں کے دوران 549 فلسطینی اسرائیلی اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے اس وقت شہید ہوئے جب وہ انسانی امداد تک رسائی کی کوشش کر رہے تھے۔
اسی عرصے میں 4,066 افراد زخمی بھی ہوئے، جن میں زیادہ تر غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن کے امدادی مراکز کے قریب متاثر ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے غزہ میں جنگ بہت سخت، بوجھ ناقابل برداشت، اسرائیلی صدر کا اعتراف
جنگ کا خوفناک اعداد و شمارغزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے آغاز سے اب تک کم از کم 56,259 افراد شہید ہو چکے ہیں۔ جبکہ 132,458 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
غزہ میں انسانی بحران مزید گہرااسرائیلی جارحیت نہ صرف عام شہریوں کی جان لے رہی ہیں بلکہ اس کے سبب خوراک، پانی، ادویات اور بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی بند ہو چکی ہے۔
اقوامِ متحدہ اور عالمی انسانی حقوق تنظیموں نے بھی فوری جنگ بندی اور محفوظ انسانی راہداریوں کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل غزہ فلسطین یورپی یونین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل فلسطین یورپی یونین یورپی یونین کا مطالبہ کے دوران شہید ہو کے لیے
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔