Express News:
2026-06-03@04:38:38 GMT

ایران اسرائیل جنگ کا خاتمہ

اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT

ایران اسرائیل جنگ آخر کار ختم ہو گئی۔ 10جون 2025کو امریکی صدر جناب ٹرمپ کیمپ ڈیوڈ میں اپنے چند حواریوں سے ملے ۔وہاں پران کو ایک بریفنگ دی گئی جس کے نتیجے میں طے پایا کہ اسرائیل اب ایران پر حملہ کر دے۔امریکا پہلے ہی ایران پر حملے کا فیصلہ کر چکا تھا۔وکی لیکس کے مطابق صدر ٹرمپ کا سعودی عرب و خلیجی ممالک کا حالیہ دورہ بظاہر تو جو بھی مقاصد لیے ہوئے تھا لیکن اصل مقصد تیل کی دولت سے مالا مال ان ممالک کو براہِ راست یہ حکم پہنچانا تھا کہ ایران اسرائیل جنگ کے تمام اخراجات یہ ریاستیں اٹھائیں گی۔

اسرائیل کے وزیرِ اعظم نتن یاہو نے امریکا کا گرین سگنل ملنے پر تیرہ جون علی الصبح ایران پر حملہ کر دیا۔اسرائیل پچھلے لمبے عرصے سے اپنے عرب ہمسایوں کو مار رہا تھا۔اسے غرور اور تکبر تو تھا ہی لیکن اسے یہ خوش فہمی بھی ہو گئی کہ وہ کسی بھی قوم کو جھکنے پر مجبور کر سکتا ہے۔اسرائیل نے اپنے قیام سے ابتک اپنی فضاؤں سے آگ برستی نہیں دیکھی تھی۔امریکا نے 10جون کو ایران پر حملے کے فیصلے سے پہلے ہی دھوکہ دہی کا ڈول مذاکرات کی شکل میں ڈال رکھا تھا۔

ایرانی قیادت اس دھوکے میں آ گئی کہ جب تک مذاکرات ہو رہے ہیں،حملہ نہیں ہو گا۔اس خام خیالی کا ایران کو بہت بڑا نقصان ہوا۔ایران کے انفراسٹرکچر کو تو جو نقصان پہنچنا تھا،سو پہنچا لیکن اس کی انتہائی تربیت یافتہ ملٹری قیادت موت کے منہ میں چلی گئی۔ایرانی افواج اور پاسدارانِ انقلابِ کے سربراہوں کے علاوہ اعلیٰ ترین قیادت پہلے دن کے اسرائیلی حملے کی نذر ہو گئی۔ایران کی نیوکلیئر قیادت بھی حملے کا شکار ہوئی۔ایران کے اداروں میں موجودہ حکومت کے مخالفین اور اسرائیلی موساد کے ایجنٹوں کی بھرمار دیکھی گئی۔شاید یہ حالیہ تاریخ کی سب سے بڑی انٹیلی جنس ناکامی تھی۔

پہلے دن کے اسرائیلی حملے کے نتیجے میں بے پناہ جانی،مالی و انفرا سٹرکچر نقصانات سے سنبھلنے میں ایران کو ایک آدھ دن لگا لیکن پھر ایران نے عزم و حوصلے سے طاقتور انگڑائی لی اور اسرائیلی شہروں،فوجی تنصیبات اور خاص کر اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد کے ہیڈ کوارٹر کو اپنے میزائلوں سے نشانہ بنانا شروع کیا۔ساری دنیا یہ سمجھتی تھی کہ اسرائیل اتنا طاقتور ہے اور اس کا فضائی دفاع اتنا مضبوط ہے کہ اس کے خلاف کوئی بھی فوجی کارروائی موثر نہیں ہو سکتی۔اسرائیل کی فضائیہ بہت اچھی اور بہت تربیت یافتہ ہے۔

یسی ایئرفورس کسی بھی ملک کے دفاع کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے ۔آج کل لڑاکا جہازوں کے مابین ڈاگ فائیٹ بہت شاذ و نادر ہے ۔آج تو میزائل ایک قوت و رفتار کے ساتھ اپنا پے لوڈ لے کر اُٹھتے ہیں اور ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے لپکتے ہیں۔یہ ٹیکنالوجی اگر امریکا و اسرائیل کے پاس ہے تو ایران بھی میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی میں بہت پیش رفت کر چکا ہے۔ایران نے بہت سمجھ بوجھ کے ساتھ پہلے دو دن بے شمار ڈرون اور کم مہلک میزائل فائر کیے جنہیں انٹرسپٹ کرنے کے لیے اسرائیلی فضائی دفاعی نظام حرکت میں آیا۔پہلے دو دن اسرائیلی نظام نے قدرے بہتر کارکردگی دکھائی اور ایران کے صرف بیس فیصد میزائل کارگر رہے،پھر بھی اسرائیلی افواج اور عوام کو دن میں تارے نظر آنے لگے۔

دو دن کے ابتدائی ایرانی حملوں کو روکتے روکتے اسرائیلی دفاعی نظام تھکنے لگا تو ایران نے اپنے زیادہ مہلک ہتھیاروں سے حملہ شروع کر دیا تب اسرائیل کا دفاعی نظام بالکل بیٹھ گیا۔ ایران کے اکثر میزائل اہداف کو نشانہ بنانے لگے۔ اسرائیل میں ہر طرف تباہی و بربادی کے مناظر دیکھنے کو ملے۔اسرائیلی عوام بنکروں میں چھپ گئی جس سے ان کا جانی نقصان تو کم ہوا لیکن اسرائیلی انفراسٹرکچر کو پہلی دفعہ کھنڈر بنتے دیکھا گیا۔

صدر ٹرمپ اور انکی ٹیم پہلے تو یہ کہتی رہی کہ یہ اسرائیل کا اپنا اقدام ہے،امریکا اس میں شامل نہیں ہے لیکن جب اسرائیل سے چیخ و پکار اٹھنے لگی تو امریکا نے پینترا بدلا۔اس موقع پر بھی دنیا کے سامنے کہا گیا کہ حملہ کرنے یا نہ کرنے سے متعلق فیصلہ دو ہفتوں میں ہو گا۔ یاد رہے کہ دو ہفتے صدر ٹرمپ کی پسندیدہ دھوکہ بازی ہے وہ اکثر موقعوں پر ایسا ہی کہتے رہے ہیں لیکن کرتے کچھ اور ہیں۔ٹرمپ اور نتن یاہو جنگ کے دوران روزانہ تبادلہ خیالات کر رہے تھے۔جنگ کے نویں روز دونوں کے درمیان طے پایا کہ اسرائیل کو مکمل تباہی سے بچانے کے لیے اب امریکا کو براہِ راست جنگ میں حصہ لینا ہوگا۔

امریکا نے فوجی کارروائی کے لیے اپنے بی ٹو بمبار طیاروں کو استعمال کیا۔ایران کے تین نیوکلیئر مقامات نطنز،اصفہان اور فردو کو بنکر بسٹر بموں سے نشانہ بنایا گیا۔اس فوجی کارروائی کی تکمیل کے فوراً بعد صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے اعلان کیا کہ امریکا نے ایران کے نیوکلیئر پروگرام کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔یہ ایک بہت بڑا دعویٰ ہے لیکن صدر ٹرمپ کوئی چھوٹی بات تو کر تے نہیں ۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ 60میٹر تک کی گہرائی میں مار کرنے والا بم اس سے کہیں زیادہ گہرائی میں قائم ایٹمی پلانٹ کو کیسے مکمل تباہ کر سکتا ہے۔

امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق ایرانی ایٹمی پلانٹ تباہ نہیں ہوئے،اسٹیلائٹ تصاویر بھی اسی بات کی گواہی دے رہی ہیں۔مشہور امریکی نیوز چینلز بشمول CNNبھی یہی کہہ رہے ہیں کہ مکمل تباہی نہیںہوئی۔خبروں کے مطابق امریکیوں نے تین ایٹمی تنصیبات پر حملے سے پہلے ایران کو آگاہ کر دیا تھا۔ یہ عین ممکن ہے کہ جنگ شروع ہوتے ہی ایرانیوں نے افزودہ یورینیم کو کسی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا ہو گو کہ یہ منتقلی آسان نہیں۔دوسرا امریکی پیشگی اطلاع بھی مدد گار رہی ہو۔غالب امکان یہی ہے کہ ایران کے پاس افزودہ یورینیم بچ گیا ہو۔جنگ شروع ہونے سے پہلے ایران کے پاس کم از کم 9ایٹم بم بنانے کے لیے 60فیصد افزودہ یورینیم موجود تھی۔اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد کسی بھی ایرانی نیوکلر مقام سے نہ تو تابکاری کا اخراج رپورٹ ہوا اور نہ ہی افزودہ یورینیم کے پھٹنے سے پیدا ہونے والا زلزلہ ریکارڈ ہوا۔ان شواہد سے تو یہی عیاںہے کہ جناب ٹرمپ کا بیان حقیقت پر مبنی نہیں۔ہاں نیوکلیئر پروگرامDegradeہوا۔

امریکی فضائی حملے کے بعد ایران نے اعلان کیا کہ وہ بدلہ لے گا۔اس وقت سعودی عرب،عراق اور قطر میں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔امریکا نے فوراً ضروری احتیاطی تدابیر بروئے کار لائیں۔ادھر ایران نے حملے سے پہلے امریکا کو جانکاری بھی دے دی۔

ایرانی حملے میں قطر اور وہاں موجود امریکی فوجی اڈے کو کوئی نقصان نہیں ہوا۔ایران کبھی امریکا کا نقصان کرتا بھی نہیں۔جنرل سلیمانی کے قتل کے بعد ایران نے عراق کے اندر امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا تو تب بھی کوئی نقصان نہیں ہوا تھا۔قطر میں امریکی فوجی اڈے پر ایرانی حملے کے فوراً بعد امیرِ قطر نے صدر ٹرمپ سے رابطہ کر کے جنگ بندی کی اپیل کی۔ٹرمپ نے امیرِ قطر کو کہا کہ آپ جنگ بندی کے لیے ایران کی رضا مندی حاصل کریں۔امیرِ قطر نے ایرانی صدر سے بات کر کے رضا مندی حاصل کی اور صدر ٹرمپ کو آگاہ کر دیا۔صدر ٹرمپ نے نتن یاہو کوجنگ بندی کا کہہ دیا یوں وہ جنگ جو امریکی حملے اور ایران کے بظاہر جوابی حملے سے ایک عالمی جنگ کا روپ دھار رہی تھی،فوری جنگ بندی پر منتج ہوئی۔

ایران اسرائیل جنگ پاکستان کے لیے بہت تشویش کا باعث تھی۔ایران پاکستان کا پڑوسی اور مسلم ملک ہے،ایرانی نقصان پر ساری پاکستانی قوم رنجیدہ ہوتی ہے۔اس جنگ کی وجہ سے جنگ پاکستان کے پڑوس میں پہنچ گئی تھی۔پڑوس میں آگ لگی ہو تو گھر کو بچانا اولین ترجیح ہوتی ہے۔جنگ کے شروع میں اسرائیل اور جنگ کے دوران امریکا نے جو اہداف مقرر کیے تھے ان میں سے ایران کے اندر حکومت تبدیلی کا ہدف تو بالکل ناکام دکھائی دیا،سابق ایرانی ولی عہد رضا پہلوی دیوارِ گریہ پر یہودی بن کر پیشانی رگڑنے کے بعد تخت سنبھالنے کے لیے تیار بیٹھے رہ گئے۔

ایرانی ایٹمی تنصیبات بھی شاید مکمل تباہی سے دوچار نہیں ہوئیں۔اسرائیل کو پہلے دن بڑی کامیابی ملی لیکن پھر جنگ کے شعلے اس کے اپنے دامن کو جلانے لگے۔پاکستان کے پاس تو امریکا،اسرائیل ،بھارت اور مغربی ممالک کی مرضی کے خلاف ایٹم بم ہے۔ہمیں اپنے دامن کو سمیٹ کر،جنگوں سے بچ کر اپنے دفاع اور معیشت کو مزید مضبوط بنانا ہے اور بہت چوکس رہنا ہے۔خدا پاکستان پر اپنی رحمت کا سایہ کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایران اسرائیل جنگ امریکی فوجی اڈے افزودہ یورینیم امریکا نے ایران نے ایران پر ایران کے سے پہلے نہیں ہو حملے کے کر دیا جنگ کے کے پاس کے لیے کے بعد

پڑھیں:

ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔

صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔

بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔

اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام