ایران کے ساتھ جنگ میں 6 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا، اسرائیلی مرکزی بینک کا اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
ایران کیساتھ جنگ سے ہونیوالے معاشی نقصانات کی تفصیل بتاتے ہوئے اسرائیل کے مرکزی بینک کا کہنا تھا کہ جنگ کے باعث اسرائیل کی جی ڈی پی میں 1 فیصد کمی کا امکان ہے۔ اسرائیلی سینٹرل بینک نے مزید کہا کہ جنگ سے انفرااسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا، ایران کے ساتھ جنگ کے اخراجات معیشت پر بھاری بوجھ ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی سینٹرل بینک کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ میں اسرائیل کو 6 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا ہے۔ اسرائیل کے مرکزی بینک نے ایران کے ساتھ جنگ سے ہونے والے معاشی نقصانات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ جنگ کے باعث اسرائیل کی جی ڈی پی میں 1 فیصد کمی کا امکان ہے۔ اسرائیلی سینٹرل بینک نے مزید کہا کہ جنگ سے انفرااسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا، ایران کے ساتھ جنگ کے اخراجات معیشت پر بھاری بوجھ ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ ایران کے خلاف فتح نے امن کے دروازے کھول دیئے ہیں، ہم ایران کے خلاف طاقت سے لڑے اور عظیم فتح حاصل کی۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اس فتح سے امن معاہدوں میں ڈرامائی توسیع کا ایک موقع ہے، جس پر ہم بھرپور طریقے سے کام کر رہے ہیں، قیدیوں کی رہائی اور حماس کی شکست کا موقع ملا ہے، جسے ہم ضائع نہیں کریں گے، ہمیں اب ایک دن بھی ضائع نہیں کرنا چاہیئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایران کے ساتھ جنگ کہ جنگ جنگ کے کہا کہ
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔